ذیابیطس سے آگاہی کا دن: مریضوں میں اضافہ کیوں

پاکستان میں ذیابیطس کا پھیلاؤ مجموعی طور پر 19 فیصد
فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی
[caption id="attachment_1751077" align="alignnone" width="800"] فوٹو: اے ایف پی[/caption]

دنیا بھر میں آج ذیابیطس سے آگاہی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں تقریباً 4 کروڑ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس سال کا تھیم ’’ذیابیطس اور خاندان‘‘ ہے۔ دنیا بھر میں 52 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد اس مرض کا شکار ہیں جبکہ 10 میں سے ہر چوتھے شخص کو یہ مرض لاحق ہے۔ پاکستان میں ذیابیطس کا پھیلاؤ مجموعی طور پر 19 فیصد ہے۔

ماہر امراض شوگر ڈاکٹر اسامہ اشتیاق کہتے ہیں کہ شوگر میٹھا کھانے سے نہیں ہوتی البتہ موٹاپا میٹھے کھانے سے ہوتا ہے۔ موٹاپے سے ذیابیطس ہو رہی ہے جو ٹائپ ٹو ذیابیطس ہے۔

 ڈاکٹر عمر کے مطابق ورزش کو معمول بنائیں اور باہر ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کو کم کر دیں۔ سبزیاں اور پھل کھانے چاہیے جبکہ چاول اور روٹی کم سے کم کھانا چاہیئے۔ مرغن غذائیں بھی کم سے کم کھانی چاہیئے۔

چیئرپرسن قائمہ کمیٹی صحت خوشبخت شجاعت کہتی ہیں کہ عوام کو شوگر کی دواؤں کی کم قیمت پر فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ کچھ میڈیکیشنز ایسی ہیں جو لوگوں کیلئے فری ہونا چاہیے یا قیمت کم ہونا چاہیئے، ہم کوشش کریں گے کہ اس کو اس حد تک لے جائیں جس سے عوام کو فائدہ ہو۔

ذیابطیس کی بیماری دل، فالج، نابینا پن اور گردے کی بیماریوں کی ماں بھی سمجھی جاتی ہے۔

Tabool ads will show in this div