آزادی مارچ سے نمٹنے کیلئے اٹک پولیس کےحفاظتی انتظامات مکمل

اٹک کی تحصیل حضرو کو دونوں جماعتوں کا گڑھ تصورکیا جاتاہے
فوٹو: آن لائن
فوٹو: آن لائن
فوٹو: آن لائن

اٹک پولیس نے جمعیت علمائے اسلام ف کے دھرنے اور احتجاجی مارچ سے نمٹنے کےلیے حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخواہ سے پنجاب میں داخل ہونے والے تمام راستوں کو سیل کرنے کےلیے 170 سے زائد کنٹینرز اور ریت کے بھرے ڈمپر لا کر موٹر وے، جی ٹی روڈ اور دیگر جگہوں پر پھینک دیئے ہیں جنہیں آئندہ 12 گھنٹوں کے دوران کرین کے ذریعے لگا کر بلاک کر دیا جائے گا۔

ریلیوں سے نمٹنے کےلیے پنجاب کانسٹیبلری اور روات سے بھاری نفری اٹک پہنچ چکی ہے جنہیں سرکاری اسکولوں اور ہوٹلوں میں ٹہرایا گیا ہے۔

اسکے علاوہ مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما شیخ آفتاب احمد کے ڈیرے پر ہونے والے اہم اجلاس میں جے یو آئی کی مقامی قیادت نے بھی شرکت کی جس میں طے کیا گیا کہ ضلع بھر سے 27 تاریخ کو نکلنے والی تمام ریلیاں فوارہ چوک میں جمع ہوں گی جہاں بڑا جلسہ کیا جائے گا۔

اس کے بعد 30 تاریخ کو خیبر پختونخوا سے آنے والے قافلوں کا اٹک پل اور موٹروے پر استقبال کیا جائے گا جس کے بعد جمع ہونے والے کارکنان آنے والے قافلوں کے ساتھ اسلام آباد روانہ ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ موٹروے کے قریب اٹک کی تحصیل حضرو کو جے یو آئی ف اور مسلم لیگ ن کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے جہاں سے باآسانی زیادہ تعداد میں ریلیاں اسلام آباد پہنچ سکتی ہیں جب کہ اسی علاقے سے موٹر وے اور جی ٹی روڈ کو بھی بلاک کیا جا سکتا ہے۔

موجودہ دھرنے اور احتجاج کے دوران ضلع اٹک کے 6 اہم پوائنٹ میدان جنگ بن سکتے ہیں۔

ATTOCK

Tabool ads will show in this div