کیاقرآن پاک میں بالخصوص ڈینگی سے شفاء کی دعاہے؟

مرض سے بچاؤ کیلئے مخصوص دعا پر علماء کی رائے
Feb 16, 2022
فوٹو : آن لائن
فوٹو : آن لائن

کراچی سمیت ملک کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں ڈینگی کا مرض تیزی سے پھیلنے کے بعد شہری اپنی حفاظت کیلئے مختلف تدابیر اختیار کررہے ہیں۔

ڈینگی سے شفاء کیلئے شہریوں نے جہاں غذاء اور ادویات کا استعمال کیا، وہیں مریضوں کی شفاء کیلئے قرآنی آیات اور دعاؤں کا سہارا بھی لے رکھا ہے۔

موذی مرض سے شفاء کیلئے کئی نسخے سوشل میڈیا پر بھی گردش کررہے ہیں، جنہیں ہر کوئی بلا تحقیق آگے بھی بڑھا دیتا ہے۔ ان میں سے ایک سورة الانعام کی آیات نمبر 16، 17 اور 18 بھی شامل ہیں، جسے شہری بالخصوص ڈینگی کے مرض سے شفاء کیلئے پڑھتے ہیں۔

مزید جانیے : ڈینگی سے راولپنڈی اورکراچی میں اموات 30 تک پہنچ گئی

قرآن پاک کی ان آیات کو ڈینگی کے مرض سے شفاء کیلئے مخصوص کرنے پر سماء ڈیجیٹل نے مذہبی اسکالرز اور مفتیان کرام سے رائے لی، جس پر ان کا کہنا تھا کہ بلاشبہ اللہ نے قرآن کو انسان کی بھلائی اور شفاء کیلئے اُتارا ہے لیکن ان آیات کو خصوصاً ڈینگی وائرس سے بچاؤ کیلئے منسوب کرنا قطعاً درست نہیں۔

رواں سال بھی کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں تقریباً 250 افراد اس مرض سے جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ 50 ہزار سے زائد افراد میں مرض کی تشخیص ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں : ڈینگی 170 ممالک میں پھیل گیا، 27 لاکھ افراد متاثر

جامعہ دارالعلوم کورنگی سے تعلق رکھنے والے مفتی عبدالمنان نے اس مرض سے شفاء کیلئے مخصوص دعا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سورة الانعام سمیت قرآن اور حدیث میں کسی بھی جگہ ڈینگی وائرس کا ذکر نہیں، البتہ شفاء کی غرض سے قرآن کی کسی آیت کو پڑھ لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

مفتی عبدالمنان کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر مریضوں کی شفاء کیلئے کوئی دعا پڑھی جاتی ہے، جس سے اسے افاقہ ہوتا ہے تو لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ فلاں آیت یا دعا اس مرض کیلئے مخصوص ہے لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہوتا، لہٰذا کسی دعا کو ڈینگی وائرس یا کسی اور مرض سے مخصوص نہ کیا جائے۔

مزید جانیے : کوئٹہ، ڈینگی وائرس کا ایک اور شخص اسپتال داخل

کراچی میں جامعۃ الاخوان کے مفتی ضیاء الرحمان چترالی نے بھی اس سے متعلق کم و بیش یہی بات کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ دعاؤں کا سہارا لینا کوئی بری بات نہیں لیکن محض اس پر ہی تکیہ کرلینا ٹھیک نہیں، شہریوں کو ڈاکٹرز کی ہدایت کے مطابق عمل کرنا بھی ضروری ہے۔

تحقیق کے مطابق ڈینگی کا مرض گرم موسم میں پھیلتا ہے، اس مچھر کا لاروا میٹھے پانی میں پیدا ہوتا ہے، بارشوں کا موسم اس کی افزائش کیلئے انتہائی موزوں وقت ہوتا ہے، یہ پانی گھروں کی چھتوں، برتنوں، ٹائروں اور گڑھوں میں کئی جمع رہنے کے باعث لاروے کی پیدائش کا سبب بنتا ہے۔

Tabool ads will show in this div