اب انسانی سر بھی ٹرانسپلانٹ ہو سکے گا

تحریر: محمد نثار خان

اسلام آباد : ہارٹ ٹرانسپلانٹ، لیور ٹرانسپلانٹ، کڈنی ٹرانسپلانٹ کے بارے میں تو اکثر سنا ہی ہوگا لیکن سال 2017 میں ایک مریض کا سر بھی ٹرانسپلانٹ کیا جائے گا، اگر یہ تجربہ کامیاب ہوگیا تو یہ انسانی زندگی کا ایک حسین اور حیرت انگیز تجربہ ہو گا۔

سینٹرل یورپ نیوز کے مطابق ایک ایسے ویلیری اسپیریدونو نامی شخص کا آپریشن کے ذریعے 2017 میں سر ٹرانسپلانٹ ہوگا۔

مزکورہ شخص کو " ورینڈنگ ہاف مین " نامی بیماری میں مبتلا ہوا، جس سے اس کے پٹھے کمزور ہو گئے لیکن اس کے باوجود اس نے اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر سر ٹرانسپلانٹ کے تجربے کے لیے پیش کیا۔ ویلیری سپیریدونو کا کہنا ہے کہ " جب میں نے محسوس کیا کہ میں اپنے آپ کو کسی بڑے اور مفید مقصد کے لیے ؤقف کرسکتا ہوں تو میرے دماغ میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہا"۔

سپیری دونو ایک ریشین کمپیوٹر آپریٹر ہے، اس کا مزید کہنا ہے کہ " میرے دل میں ایک خوشگوار خواہش تھی کہ میں کچھ مفید کام کروں اور اب ایسا ہونے جا رہا ہے"۔ اٹلی کے نیورو سرجن ڈاکٹر سرجیو یہ تجربہ کریں گے، اس تجربے میں کم از کم 36 گھنٹے لگیں گے،آپریشن کے دوران ویلیری سپیریدونو کے سر کو ٹھنڈا رکھنے کی ضرورت ہوگی اور ڈونرز کے جسم میں خلیات کو بھی آکسیجن کے بغیر زندہ رکھنا ہوگا۔

ڈاکٹر سر جیو سپیری کا کہنا ہے کہ " اس منصوبے کے مطابق دو سال تمام سائنسی اعداد و شمار کی توثیق کرنے اور طریقہ کار کی تفصیلات کی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے ، یہ کوئی دوڑ نہیں، ڈاکٹر اور ماہرین کا 99 فی صد خیال ہے کہ یہ تجربہ کامیاب ہو گا۔

ایک موقع پر سوال کے جواب میں ڈاکٹر سر جیو سپیری کا کہنا تھا کہ اگر یہ تجربہ کامیاب ہوگیا تو وہ لمبی چھٹیاں انجوئے کریں گے۔ اس آپریشن کا مقصد بری طرح معذور افراد کی مدد کرنا ہے، اگر آپریشن کامیاب ہوگیا تو اس سے معزور افراد کو ایک صحت مند انسان کی طرح زندگی گزارنے کا موقع ملے گا۔ سماء

RUSSIAN

HEALTH

Liver

HEART

NEUROSURGEON

Tabool ads will show in this div