دریائے سندھ بے قابو، کچے کے مکین پکے ٹھکانوں کی تلاش میں

ویب ایڈیٹر:


کراچی: دریائے سندھ میں سیلاب کے باعث تباہ کاریاں جاری ہیں۔ دریائے سندھ بے قابو ہونے کے باعث ہرطرف پانی ہی پانی ہے۔

سکھر بیراج میں بڑا سیلابی ریلا داخل ہو گیا جس کے باعث مزید کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ کچے کے مکینوں کو پکے ٹھکانوں کی تلاش ہے۔ بارشوں اور سیلاب سے گھوٹکی،شکارپور اور کندھ کوٹ کو شدید خطرات لاحق ہو گئے۔

دریائے سندھ میں طغیانی کے باعث گھوٹکی کے کچے کے مزید 20 دیہات زیرآب آگئے جس کے باعث سیکڑوں خاندان نقل مکانی نہ کرسکے، سیلاب متاثرین گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔

خیرپور میں 140 کلو میٹررقبے پر محیط کچے کا علاقہ سیلابی پانی کی مکمل لپیٹ میں آگیا ۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں گزشتہ روز سے موسلا دھاربارش جاری ہے جس کے باعث نشیبی علاقے پانی میں ڈوب گئے۔ اکثرعلاقوں میں بجلی کئی گھنٹوں سے معطل ہے۔کڑی شموزئی کے مقام پر ایک نوجوان سیلابی ریلے میں بہہ گیا ۔

مظفر گڑھ میں دریائے سندھ میں تونسہ بیراج کے مقام پر 2روز سے اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ادھر سرکی کے مقام پر 6 لاکھ کیوسک سے زائد کا ریلا گزر رہا ہے۔ سیلابی ریلے کے باعث 30سے زائد بستیوں کا زمینی راستہ منقطع ہو گیا۔ مسلسل بارش سے حفاظتی بند کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ سماء

river indus

Tabool ads will show in this div