آئین کی حفاظت نہ کی تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، جاوید ہاشمی

ویب ڈیسک


اسلام آباد : سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ  پرویز مشرف کیخلاف آئین و قانون کے مطابق کارروائی کی گئی تو آمر کا ساتھ دینے والے بھی قابو میں آجائیں گے، آئین کی حفاظت نہیں کی گئی تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ بابر اعوان کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کیخلاف عدالتی کارروائی کے دوران بہت سے سوالات اٹھیں گے، آمر کی حمایت پر سابق چیف جسٹس کا نام بھی بطور ملزم سامنے آسکتا ہے۔


سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف رہنما جاوید ہاشمی نے کہا کہ غداری سے متعلق کیس میں کسی کو سزا نہیں ملے گی صرف ستارہ جرات ملے گا، دنیا میں مارشل لاء لگنا بند ہوگئے، ہمارے ملک میں اس کا راستہ نہیں روکا گیا آج بھی ہم ایک نئے مارشل لاء کو خوش آمدید کہنے کیلئے کھڑے ہیں۔


ان کا کہنا ہے کہ آئینی ترامیم کے ذریعے آئین توڑنے والوں کا ہاتھ روکنے کی کوشش کی گئی، پرویز مشرف کیخلاف مقدمہ 12 اکتوبر پر نہیں 3 نومبر کی کارروائی پر چلایا جارہا ہے، وفاق کو فیصلہ کرنے کا اختیار ہے، 12اکتوبر کا معاملہ اٹھایا گیا تو اس میں بہت سے مسائل پیدا ہوں گے۔


جاوید ہاشمی کہتے ہیں کہ سابق صدر پرویز مشرف سے پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے وزراء نے حلف لیا، میں نے اس پر اعتراض کیا تھا، قانون اور آئین کے مطابق کارروائی ہوئی، آمر کا ساتھ دینے والے بھی قابو میں آجائیں گے، آئین کا تحفظ نہیں کریں گے تو ملک آگے نہیں بڑھے گا۔


انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا واضح مؤقف ہے کہ فوجی آپریشن ملکی مسائل کا حل نہیں، شمالی وزیرستان کی موجودہ صورتحال سے کنفیوژن بڑھ رہا ہے، فوج کے سامنے ٹھہرنے کی کسی میں طاقت نہیں، آپریشن اور جنگ میں معصوم لوگ بھی مارے جاتے ہیں۔


جاوہد ہاشمی نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں امن کی ضرورت سب سے زیادہ ہے، ہمیں برداشت اور صبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا، پورے پاکستان کے لوگ اہلبیت سے محبت کرتے ہیں، ہمیں تقسیم کیا جارہا ہے، تمام مکاتب فکر سے اپیل کرتا ہوں کہ جو اصول اور راستے طے کئے ہیں ان پر عمل کیا جائے۔


قانونی ماہر بابر اعوان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ حکومت کنفیوژن کا شکار ہے، 12 اکتوبر کے بجائے 3 نومبر کے اقدامات پر پرویز مشرف کیخلاف کارروائی کی جارہی ہے، عدالت میں بہت سے اہم سوالات اٹھیں گے، سابق چیف جسٹس سمیت دیگر شخصیات کے نام بھی بطور ملزم سامنے آسکتے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ حکومت کو شمالی وزیرستان سے متعلق سب کو حقائق سے آگاہ کرنا چاہئے، حکومت کو چاہئے کہ امن مذاکرات سے پارلیمنٹ میں بتائے کہ کس کا دباؤ ہے، حکومت کی تمام توجہ مہنگائی بڑھانے اور قرض مانگنے پر ہے، عوامی مسائل حل کرنے پر نہیں۔


معروف کالم نگار ہارون رشید نے ندیم ملک سے گفتگو میں کہا کہ پرویز مشرف کیخلاف کارروائی کے آغاز سے فوج کی طرف سے کوئی رد عمل نہیں آئے گا، گیلپ سروے کے مطابق 12 اکتوبر کے مارشل لاء کو 70 فیصد عوام نے خوش آمدید کہا تھا، ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف سمیت بہت سے سیاستدان مارشل لاء کی پیداوار ہیں۔


ان کا کہنا ہے کہ آئین کی خلاف ورزی پر مقدمات چلنے چاہئیں، جو ملوث ہے اسے سزا بھی ملنی چاہئے، سول حکومتیں بھی آئین کے مطابق کام نہیں کرتیں، زرداری اور نواز شریف حکومت نے بھی آئین پر عملدرآمد نہیں کیا، کیا حمزہ شہباز آئین کے تحت پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے ہوئے ہیں؟۔


ہارون رشید نے کہا کہ کسی کو سزا ملے یا نہیں عدالت کو تمام مارشل لاء اور ان کے حمایتیوں سے متعلق فیصلے سنانے چاہئیں، جو لوگ آمریت کی پیداوار ہیں وہ آج جمہوریت کے علمبردار بنے ہوئے ہیں۔


ندیم ملک کے سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت، فوج اور آئی ایس پی آر کو شمالی وزیرستان کی صورتحال سے متعلق قوم کو سچ بتانا چاہئے، نواز شریف ڈر پوک اور کنفیوژ آدمی ہیں، فتنہ پھیلانے والے نام نہاد علماء کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ سماء

کی

ملک

sargodha

plans

offers

law

explore

Tabool ads will show in this div