سپریم کورٹ کااقلیتوں کے بنیادی حقوق کیلئے بینچ بنانے کاحکم

وفاقی اورصوبائی حکومتوں سے ایک ماہ میں رپورٹ طلب

سپریم کورٹ نے اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے معاملے پر عملدرآمد بینچ بنانے کا حکم دے دیا، وفاقی اورصوبائی حکومتوں سے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی گئی۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اقلیتی برادری کے بنیادی حقوق کیس کی سماعت کی،اقلیتی ممبراسمبلی رمیش کمار نے استدعا کی کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کا چئیرمین اقلیتی برادری سے بنایا جائے، متروکہ وقف املاک بورڈ کے 23 میں سے 15 ممبران مسلمان ہیں۔

جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے آپ توخود حکومت میں ہیں، آپ یہ کام اپنی حکومت سے بھی کروا سکتے ہیں لیکن آپ عدالت آگئے۔

درخواست گزار سائمن پیارا نے کہا کہ پشاور بم دھماکے کے متاثرین کا معاوضہ ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے پاس ہے حالانکہ یہ معاوضہ بم دھماکے کے متاثرین کو ملنا تھا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہم یہاں اپنے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے بیٹھے ہیں، بظاہر لگتا ہے کہ حکومت اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہتی ہے جبکہ کرتارپور راہداری بہت بڑی پیشرفت ہے۔

عدالت نے عملدرآمد بینچ بنانے کا حکم دیتے ہوئے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا۔

عدالتی بینچ نے کمیشن برائے اقلیتی حقوق کو آفس کی جگہ اور ضروری اسٹاف فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی ۔

 

MINORITIES

Tabool ads will show in this div