افغان امن عمل میں مذاکرات واحد راستہ ہے،شاہ محمود

طالبان وفد کی قیادت ملا برادر کررہے ہیں

اسلام آباد میں افغان طالبان کےاعلیٰ سطح وفد نے وزارت خارجہ ميں وزیر خارجہ شاہ محمود قريشی سے ملاقات کی جس میں امريکا طالبان مذاکرات کی جلد بحالی کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔ وزيرخارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان ميں قيام امن کيلئے جنگ نہيں بلکہ مذاکرات ہی واحد راستہ ہے،پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرتا رہے گا۔

افغانستان ميں امن و استحکام کيلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں۔ طالبان امريکا مذاکرات کو دوبارہ شروع کروانے کے لیے پاکستان نے ایک اور کوشش کی ہے۔

دوحہ سے آئے ہوئے طالبان کے سیاسی وفد نے وزيرخارجہ سے اہم ملاقات کی۔ 12 رکنی طالبان وفد کی قیادت ملا برادر کررہے ہیں۔

دفتر خارجہ ميں ملاقات کے دوران خطے کی صورتحال، افغان امن عمل سمیت باہمی دلچسپی کےامور پر تبادلہ خیال کيا گيا۔ فریقین کے درميان امريکا طالبان مذاکرات کی جلد بحالی کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔ افغان طالبان وفد نے افغانستان ميں قيام امن کيلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

افغان طالبان کا وفد آج اسلام آباد پہنچے گا

وزیر خارجہ شاہ محمود قريشی نے ثالثی کردارجاری رکھنے کےعزم کو دہرايا اور کہا کہ افغانستان میں عدم استحکام کا خمیازہ دونوں ممالک بھگت رہے ہیں،پاکستان کو خوشی ہے کہ آج پوری دنیا افغانستان سے متعلق پاکستان کے موقف کی تائید کررہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، پُرامن افغانستان کيلئے مذاکرات ہی مثبت اور واحد راستہ ہے۔

طالبان مذاکرات پراعتمادمیں کیوں نہ لیا؟زلمےخلیل زادکی طلبی

واضح رہے کہ افغان طالبان کا وفد گزشتہ روز اسلام آباد پہنچا تھا جبکہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن زلمے خلیل زاد پہلے ہی پاکستان ميں موجود ہیں۔

نیٹو فوج کے سربراہ ، امریکی کانگریس کا وفد اور طالبان وفد وزيراعظم عمران خان سمیت عسکری حکام سے ملاقات کرے گا۔

 

AFGHAN TALIBAN

AFGHAN PEACE ACCORD

Tabool ads will show in this div