بارود کی بو میں رچے افغان صدارتی انتخابات

اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ میں پھر تگڑامقابلہ

خوف، تشدد، حملوں اور دھماکیوں کے باوجود افغانستان کے مختلف صوبوں میں نئے صدر کے چناؤ کیلئے انتخابی عمل جاری ہے۔ طالبان کی دھمکی کے بعد پہلا رد عمل مرکزی شہر قندھار میں دیکھنے میں آیا، جہاں صبح پولنگ اسٹیشن میں دھماکے سے 15 افراد زخمی ہوگئے۔

پولنگ کا عمل

افغان صدارتی انتخاب کیلئے 1 درجن سے زائد امیدواروں میں مقابلہ جاری ہے۔ پولنگ کا عمل صبح 7 بجے شروع ہوا، جو دوپہر 3 بجے تک جاری رہے گا۔

 

موجودہ صدر اشرف غنی اس بار بھی میدان مارنے کیلئے پرامید نظر آرہے ہیں، تاہم انہیں بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائزہ استعمال جیسے الزامات کا سامنا ہے، جب کہ چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ اشرف غنی کو مات دینے کیلئے بے تاب ہیں۔ صدارتی انتخاب کے عمل میں یہ دونوں اہم ترین امیدوار ہیں۔ امیدواروں کی دوڑ میں ایک اور اہم نام قدامت پسند سردار گلبدین حکمت یار کا بھی ہے، جو اشرف غنی کی طرح پشتون ہیں۔

پاک افغان بارڈر

افغانستان بھر میں انتخابات کے عمل پر پر امن بنانے کیلئے ايک لاکھ سے زيادہ اہلکاروں کو سیکیورٹی فرائص کیلئے تعينات کيا گيا ہے۔ پاکستان نے افغان سرحد کی بندش ميں نرمی بھی کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فيصل نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ افغانستان کی درخواست پر مخصوص ٹرمينلز آمد و رفت کے ليے کھلے رہيں گے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر 2 روز تک سرحد مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان کيا تھا۔

امیدوار کون کون؟

سربراہ مملکت بننے کی دوڑ میں رواں سال ہونے والے انتخاب میں18 پیادے میدان میں اترے ہیں، تاہم مخدوش سیکیورٹی صورت حال کے باعث اکثر امیدوار اپنی انتخابی مہم بہتر طریقے سے نہ چلا سکے۔ جب کہ کچھ امیدوار اس گمان میں تھے کہ افغان انتخاب نہیں ہوسکیں گے۔ اس گمان میں آخری کیل امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات منسوخی نے ٹھوکی، جب کہ کچھ امیدوار اشرف غنی کی حمایت میں دستبردار ہوئے۔

ووٹرز کتنے؟

ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک میں اہل ووٹرز کی تعداد 9.6 ملین کے لگ بھگ ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ کتنے شہری ووٹ ڈالنے کیلئے نکلیں گے۔ موجودہ بے یقینی کی کیفیت بلاشبہ افغان طالبان کو پنپنے کا موقع فراہم کرے گی۔ افغان ووٹرز بھی شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ آیا وہ اپنے ووٹ اور ووٹ کی طاقت کو استعمال کرنے کیلئے گھروں سے نکلیں یا نہیں۔ پولنگ کیلئے افغانستان بھر میں 5000 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔

چار صوبوں میں انتخابات ملتوی

میدان، وردک ، غزنی اور نورستان صوبوں کے 20 اضلاع میں ابتر سیکیورٹی صورت حال کے باعث عوام حق خود ارادیت استعمال نہیں کرسکیں گے۔

انتخابی مبصر

افغان صدارتی انتخاب کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے 1 لاکھ 10 ہزار سے زائد مبصرین کا اندراج کیا گیا ہے، جس میں 115 ملکی اور غیر ملکی ادارے اور میڈیا سینٹرز بھی شامل ہیں۔ اسی طرح 18 میں سے 9 امیدواروں نے بھی ووٹنگ کی جانچ پڑتال کے لیے اپنے اپنے مبصرین کی رجسٹریشن کروائی ہے۔ صدر غنی کے اپنے مبصرین کی تعداد 26 ہزار سے زائد ہے اور عبداللہ عبداللہ کے مبصرین کی تعداد بھی تقریباً اتنی ہی ہے۔

گزشتہ سال کے عام انتخابات

گزشتہ سال اکتوبر میں  ہونے والے افغان عام انتخابات کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ  ان انتخابات میں جہاں 2500 امیدوار میدان میں اترے، وہیں ان میں پہلی بار ایک قیدی بھی امیدوار بنا۔ جو مغربی صوبے فرح کی جیل میں دو سال سے قید ہے۔ افغانستان میں سال 2001 میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ تیسرے اور سال 2014 میں نیٹو مشن کے خاتمے کے بعد پہلے عام انتخابات تھے۔ اصولاً افغانستان میں انتخابات کا انعقاد ہر 5 سال بعد ہوتا ہے، تاہم ناگزیر وجوہات کے باعث الیکشن میں تعطل طول پکڑتا گیا تھا اور یہ ہی حال صدارتی انتخاب کے ساتھ بھی رہا۔

TALIBAN

ASHRAF GHANI

AFGHAN ELECTIONS

Tabool ads will show in this div