بلدیہ فیکٹری کیس،مالکان کے بیان کی نقول عدالت میں پیش

متحدہ کو 15 لاکھ روپے ماہانہ بھتےپررضامندی ظاہر کی

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کی اہم سماعت ہوئی۔ فیکٹری مالکان کے جے آئی ٹی کو ریکارڈ کرائے گئے بیان کی نقول پیش کردی گئیں۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ جنرل منیجر منصور نے ایم کیوایم کو 15 لاکھ روپے ماہانہ دینے پررضامندی ظاہر کی تھی، فیکٹری مالکان  نے منصور کو بھتے کے معاملات دیکھنے کا کہا تھا اور ایک کروڑ روپے دے کر معاملہ نمٹانے کی ہدایت بھی کی تھی۔

بیان میں درج ہے کہ آتشزدگی کے بعد ایم کیوایم سیکٹر انچارج اصغر بیگ کو بھتہ دیا گیا، سال 2012 میں شاہد بھائلہ، منصور کے آفس ميں اصغر کے بھائی ماجد سے ملا، ماجد بیگ نےکہا تھا کہ اب ایم کیوایم کو کروڑوں روپے بھتہ دینا پڑے گا۔

بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رحمان بھولا نے حماد صدیقی کی ایما پر 25 کروڑ روپے بھتہ اور فیکٹری میں حصہ مانگا تھا، اس دوران فیکٹری مالکان کام پر جانے والا روٹ اور گاڑیاں بھی تبدیل کرتے تھے۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ 11 ستمبر 2012 کو پہلے گودام میں آگ لگائی گئی،فائر بريگيڈ 60 سے 90 منٹ ميں اس مقام پر پہنچی تھی۔

فیکٹری مالکان نے بیان دیا ہے کہ ان کے جانے کے بعد ایم کیوایم کارکنوں نے کسی کو اندر جانے نہیں دیا، اس واقعہ کا مقدمہ ایم کیوایم کے رہنماء رؤف صدیقی کے دباؤ پر فیکٹری مالکان کے خلاف درج کردیا گیا اور انھیں ولن اور اصلی ملزم کے طور پر پیش کیا گیا۔

سانحہ بلدیہ ٹاؤن؛ جے آئی ٹی ٹیم کراچی پہنچ گئی، سنسنی خیر انکشافات

 ‎ واضح رہے کہ 11 ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن میں علی انٹرپرائزز فیکٹری میں 259 افراد کو زندہ جلادیا گیا تھا۔ پولیس نے پہلے تو سانحے کو حادثہ قرار دے کر فائل بند کرنے کی کوشش کی لیکن  جے آئی ٹی نے رپورٹ میں ہولناک انکشافات کر دیے۔

رپورٹ کے مطابق بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگائی گئی اورایم کیوایم کی قیادت نے فیکٹری کو جلانے کا حکم دیا۔ رپورٹ کی روشنی میں مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئیں۔

رینجرز نے ایم کیوایم کے کارکن عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریا سمیت دیگر ملزمان گرفتارکیے۔ ایم کیو ایم رہنما رؤف صدیقی سمیت 9 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی۔اس کیس کے اہم ملزم حماد صدیقی کو اشتہاری قرار دیا گیا لیکن عدالتی حکم کے باوجود ملزم کو پاکستان لانے کے لیے کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے گئے۔ کیس میں 401 گواہوں میں شہدا کے لواحقین سمیت 396 گواہوں نے بیانات ریکارڈ کرائے۔

دبئی سے فیکٹری مالکان بھائلہ برادران سمیت 5 گواہوں کے بیانات وڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرانے کی اجازت دی گئی مگر گرفتارملزم عبدالرحمان بھولا نے وڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی اے ٹی سی کی اجازت کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

baldia town

Tabool ads will show in this div