سندھ کے احتجاج کرنے والے اساتذہ پرپولیس کا لاٹھی چارج

ہيڈماسٹرز کا مطالبہ ہے کہ ملازمتیں مستقل کی جائیں

کراچی پريس کلب کے باہر احتجاج کرنے والے اساتذہ کا وزيراعلیٰ ہاؤس مارچ کرنے پر پوليس نے لاٹھی چارج کیا جس کے باعث ایک شخص بےہوش ہوگیا۔

وزيراعلیٰ ہاؤس کی جانب مارچ کرنے والے اساتذہ کو منتشر کرنے کےلیے پولیس نے لاٹھی چارج کے علاوہ واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔ پوليس اور مظاہرين کے درميان ہاتھا پائی کے نتیجے میں ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔

سندھ بھر کے آئی بی اے ٹیسٹ پاس پرائمری اسکولز کے ہيڈماسٹرز کا مطالبہ ہے کہ ان کی ملازمتیں مستقل کی جائیں۔ اگر وزيراعلیٰ ہاؤس جانے نہ دیا گیا تو مزید 10 دن پریس کلب کے باہر دھرنا دیں گے۔ ہیڈماسٹرز نے محکمہ تعلیم سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن سیکریٹری ایجوکیشن کی جانب سے کوئی واضح بیان سامنے نہ آنے پر اساتذہ نے وزيراعلیٰ ہاؤس کی طرف مارچ کیا۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اساتذہ کو سندھ پبلک سروس کمیشن کا ٹیسٹ دے کر اپنی اہلیت ثابت کرنا ہوگی لیکن گزشتہ سال سابق وزیر تعلیم سرادر شاہ نے کہا تھا کہ آئی بی اے ٹیسٹ اہل ہونے کےلیے کافی ہے۔

مسلم لیگ فنکشنل کی رہنماء نصرت سحر عباسی نے اتوار کی صبح دھرنے والوں کو یقین دلایا تھا کہ وہ ان کے حق میں سندھ اسمبلی اجلاس میں آواز اٹھائیں گی۔

چار جولائی 2017 ميں سکھر سے 957 ہیڈماسٹرز تعینات ہوئے جبکہ کراچی سے 95 ہیڈ ماسٹرز اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

Tabool ads will show in this div