آپریشن ضرب عضب کا فیصلہ کن مرحلہ، پاک فوج قبائلی علاقوں میں 2019 تک رہے گی

ویب ایڈیٹر:

اسلام آباد: آپریشن ضرب عضب کا فیصلہ کن مرحلہ شوال میں جاری ہے، اب تک ساڑھے 3 ہزار دہشتگرد ہلاک اور 300 سے زائد فوجی جوان شہید ہو چکے ہیں۔ پاک فوج قبائلی علاقوں میں 2019 تک رہے گی۔

ادھر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے سرحدوں پربھارتی جارحیت کیخلاف قرارداد منظورکرلی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں سیکرٹری دفاع عالم خٹک اور فوج کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔سیکرٹری دفاع نے آپریشن ضرب عضب سے متعلق اپنی بریفنگ میں بتایا کہ آپریشن ضرب عضب کا فیصلہ کن مرحلہ شوال میں جاری ہے۔ شوال کے پہاڑوں پر سیکیورٹی فورسز کا کنٹرول ہے۔ 

کمیٹی کو بتایا گیا کہ آپریشن میں اب تک ساڑھے 3 دہشت گرد ہلاک جبکہ 3 سو سے زائد فوجی افسران اور جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، ملک بھر میں 60 ہزار سے زائد انٹیلی جنس آپریشنز میں دہشت گردوں کے کئی نیٹ ورک توڑے گئے۔

 چیئرمین کمیٹی روحیل اصغر نے کہا کہ دہشت گردوں کی معاونت میں سیاستدان بھی پکڑے جاتے ہیں تو کوئی بُری بات نہیں۔ روحیل اصغر نے بتایا کہ  پاک فوج 2019 تک قبائلی علاقوں میں رہے گی جبکہ 64 ہزار آئی ڈی پیز اپنے علاقوں کو واپس جا چکے ہیں۔

قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران چیئرمین کمیٹی روحیل اصغر کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے بہت سے سہولت کار بھی پکڑے گئے ہیں۔ سیاستدان بھی پکڑے جاتے ہیں تو کوئی بُری بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے زیادہ مقدم کچھ بھی نہیں۔ سماء

pak army

terrorists

operation zarb e azb

MARTYRDOM

Tabool ads will show in this div