کراچی سرکلر ریلوے: تاریخ کی سب سے بڑی ٹرین ڈکیتی

جہاں خواتین بسوں میں سفر کا خواب دیکھتی ہیں

کراچی کی اہم کاروباری شاہراہ آئی آئی چندریگر روڈ پر موجود ایک دفتر میں کام کرنے والی بیشتر خواتین خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کیونکہ ان کا ادارہ انہیں پک اینڈ ڈراپ کی سروس فراہم کرتا ہے ۔ بعض اوقات خواتین ٹریفک جام کے باعث ناراضگی کا اظہار کرتی نظر آتی ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر چاہے وہ تھوری ناراض ہوں لیکن مطمئن نظر آتی ہیں ۔ زیادہ تر ایسی خواتین ہیں جنہیں گاڑی چلانا نہیں آتی ، ان کے پاس گاڑی نہیں یا ان کی رہائش کئی میل دور ہے جس کے باعث انہیں کام کی جگہ پہنچنے میں دو گھنٹے سے زائد وقت لگ جاتا ہے ۔

 ایک دن ان کا ادارہ معاشی بحران کے باعث پک اینڈ ڈراپ سروس کو ختم کرکے ڈائیورز کو نوکری سے نکال دیتا ہے اور تمام گاڑیوں کو فروخت کردیتا ہے تاہم ان خواتین کو ٹرانسپورٹ کے عوض ماہانہ 7 ہزار روپے کا وظیفہ دے دیا جاتا ہے ۔

خواتین کو کام کی جگہ پہنچنے کیلئے متبادل راستہ اختیار کرنا کسی پہاڑ توڑنے سے کم نہ تھا ، کیونکہ ملازمین دور دراز علاقے جیسے کنیز فاطمہ سوسائٹی ، کورنگی کراسنگ ، ناظم آباد ، واٹر پمپ سے آتی ہیں ۔کچھ نے نجی وین سروس تلاش کرلی جس میں دیگر دفاتر کی خواتین کو پک اینڈ ڈراپ سروس فراہم کی جاتی ہے لیکن اس سروس نے ملیر اور گلستان جوہر کی خواتین کو سروس دینے سے انکار کردیا کیونکہ ان کے کام کے اوقات مختلف تھے جبکہ اکثر نے  15 ہزار روپے چارجز کا مطالبہ کیا جو کچھ خواتین کی تقریباً آدھی تنخواہ ہے ۔

یہ وہ خواتین ہیں جو کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کا خواب دیکھتی ہیں، وہ اس شہر کے لاکھوں لوگوں کی نمائندگی کرتی ہیں جنہوں نے اس شہر میں آسان اور سستے ٹرانسپورٹ سسٹم کی امید چھوڑ دی ہے۔ لوگوں کو روزگار کمانے، یونیورسٹی جانے ، ڈاکٹر کے پاس جانے یا محض تفریح کے لئے باہر جانے کے لئے ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ عوام کو اس اخراجات کے باعث مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، سو روپے چنگچیوں یا رکشہ یا بسوں کے لئے ، ہزاروں روپے کریم ، بائیکا یا اوبر پر سفر کرنے کیلئے جبکہ ذاتی گاڑی کیلئے لاکھوں روپے درکار ہوتے ہیں ۔

یہ خواتین ان چند ہزار مردوں کی نمائندگی نہیں کرتی ہیں جو پبلک ٹرانسپورٹ کا خواب نہیں دیکھتے ہیں، یہ وہ مرد ہیں جو شہر اور صوبائی حکومتوں میں فیصلے کرتے ، انجینئرنگ کنسلٹنٹ فرموں اور بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں میں کام کرتے ہیں ۔ یہ لوگ سستی اور آسان ٹرانسپورٹ کی امید نہیں کرتے کیونکہ ان کے پاس بہتر سہولت موجود ہے، ان کے پاس ڈرائیور سمیت بلٹ پروف ویگو اور فارچیونرز ، ٹویوٹا، سوک اور ہائبرڈ پریوس موجود ہے جس کا پیٹرول ٹینک بھی بھرا ہوتا ہے ۔ان میں سے بہت سو کے پروٹوکول کیلئے پولیس موبائل بھی ہوتی ہے جو ٹریفک میں ان کا راستہ نکال لیتے ہیں ۔

[iframe width="100%" height="300" scrolling="no" frameborder="no" allow="autoplay" src="https://w.soundcloud.com/player/?url=https%3A//api.soundcloud.com/tracks/672166979%3Fsecret_token%3Ds-rhl8h&color=%23ff5500&auto_play=false&hide_related=false&show_comments=true&show_user=true&show_reposts=false&show_teaser=true&visual=true"]

یقیناً، اقتدار میں آنے والے لوگوں نے کراچی شہر میں سستی اور عوامی ٹرانسپورٹ کے حصول کے لئے کئی کوشش کی، کئی دہائیوں کے دوران ، مختلف حکومتوں نے یو ٹی ایس بسوں سے لے کر گرین بسوں تک کئی منصوبے شروع کیے لیکن کچھ بھی کارآمد نہیں ہوا ۔

ان مسائل کا ایک حل ہے جوعین ہماری ناک کے نیچے موجود ہے وہ ہے کراچی سرکلر ریلوے۔ جیسا کہ اس کے نام سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک ایسا ٹریک ہے جو شہر کے چاروں طرف چکر لگاتا ہے اور بہت سے مختلف حصوں سے لوگوں کو جوڑنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک ٹرین سروس تھی جو 1960 کی دہائی میں شروع ہوئی تھی اور کئی برس تک بہت عمدہ رہی۔

ابتداء میں کے سی آر کو کراچی پورٹ سے فیکٹریوں تک شپمنٹ سے آنے والے مال کو پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا لیکن چونکہ ٹرین مختلف علاقوں سے گزرا کرتی تھی تو 1970 کی دہائی تک لوگوں نے اسے سفر کیلئے بھی استعمال کرنا شروع کردیا، کے سی آر کو 44 کلومیٹر کے راستے تک بڑھایا گیا تھا اور اگلے دس برس تک اس میں 60 لاکھ افراد سفر کرتے تھے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ 80 کی دہائی کے وسط تک کے سی آر میں کئی وجوہات کی بناء پر مشکلات کا آغاز ہوا۔ ایک موقع پر دن میں صرف 12 چکر لگنے لگے اور 1999 تک اسے نقصانات کی وجہ سے بند کردیا گیا تھا ، ٹرین کی پٹریوں پر گھاس اُگنے لگی اور آہستہ آہستہ لوگوں نے اس جگہ پر مکانات اور دکانیں بنانا شروع کردیں جہاں سے ٹرینیں چلتی تھیں۔ اس کے بعد حکام نے کوشش کی ہے کہ کراچی کے عوام کو اس کی متبادل چھوٹی چھوٹی منی بسوں میں سفر کی سہولت فراہم کی جائے۔

جاپانی ڈونر ایجنسی (جے آئی سی اے ) جس کے انجینئرز پبلک ٹرانسپورٹ میں مہارت رکھتے ہیں ، انہوں نے سرکلر ریلوے کو دوبارہ شروع کرنے کے طریقہ کار پر 2012 میں ایک تفصیلی تحقیق کی کہ اسے کیسے دوبارہ بحال کیا جائے ۔ انہوں نے حقیقت پسندانہ منصوبہ پیش کیا تھا کہ اگرحکومت کو ان لوگوں کو جنہوں نے پرانی پٹریوں پر یا اس کے آس پاس رہنا شروع کردیا تھا اگر انہیں ہٹانا ہے تو ان کی مدد کرنی پڑے گی لیکن یہ پلان کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔

چھ سال بعد 2018 میں جب سپریم کورٹ نے کراچی میں تجاوزات کے خلاف کیس کی سماعت کی تو ججوں نے کے سی آر کی پٹریوں پر قائم ہونے والی تجاوزات ختم کرنے کا بھی حکم دیا تاہم دسمبر 2018 تک کراچی کی سٹی انتظامیہ نے ان تجاوزات کو گرانا شروع کردیا۔

ابتداء میں شہر کے وسطی ضلع میں چھوٹی تجاوزات کو ٹریک سے ہٹا دیا گیا، تقریبا 7.2 کلومیٹر کا ٹریک جو غریب آباد سے نارتھ ناظم آباد بورڈ آفس تک جاتا تھا،اس کو صاف کیا گیا۔

[iframe width="100%" height="360" frameborder="0" scrolling="no" marginheight="0" marginwidth="0" src="https://www.youtube.com/embed/PR8IbSyDpEc"]

پھر مئی 2019 یعنی تقریبا پانچ ماہ تک خاموشی رہی اور جب سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ سندھ ، کمشنر کراچی اور ریلوے کو 45 دن میں کے سی آر کو بحال اور چلانے کا حکم دیا تو سیکریٹری برائے ریلوے نے عدالت سے وعدہ کیا کہ وہ کام مکمل کریں گے اور دو ہفتوں میں ایک لوکل ٹرین چلائی جائے گی، اس کے بعد وہ کے سی آر کو حکومت سندھ کے حوالے کردیں گے۔

اس پیش رفت نے بہت سارے لوگوں کو امید دلائی کہ ٹرانسپورٹ کے بحران سے نمٹا جا رہا ہے لیکن کے سی آر کوئی جادوئی گولی نہیں ہے جو معجزانہ طور پر پورے نظام کو بدل دے گی۔ تاہم ، یہ ایک ماسٹر پلان کی بنیاد ہے جس کی وجہ سے پورے شہر کے لوگوں کے لئے سفر میں آسانی ہوگی اور اس کو ٹرانسپورٹ ماسٹر پلان 2030 میں رکھا گیا ہے۔

کراچی بریز کے نام سے پہچانے جانے والا یہ منصوبہ پانچ بس ریپڈ ٹرانزٹ لائنز پر مشتمل ہے جس کی پہچان (گرین، ریڈ، یلو، پرپل اور نیوی بلیو) لائنز سے کی گئی ہے جبکہ ایک ماس ریپڈ ٹرانزٹ کا رنگ (براؤن) اور ایک الگ بی آر ٹی لائن (بلیو) رکھا گیا۔ گرین، ریڈ، یلو اور بلیو رنگ کی لائنز ایم اے جناح روڈ پر واقع نمائش چورنگی سے ملیں گی جبکہ یہ سب کسی نہ ۔ کسی مقام پر کے سی آر سے منسلک ہیں اور یہ سارا پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک مثالی طور پر کافی حد تک کراچی کے گرد گھومتا ہے

گرین لائن پر کام 2016 میں شروع ہوا تھا اور توقع ہے کہ اس سال دسمبر تک مکمل ہوجائے گا کیونکہ اس کا تقریبا 65 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔جولائی میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے ریڈ لائن کو بنانے میں مدد کے لئے 235 ملین ڈالر قرض کی منظوری دی تھی۔

کراچی سرکلر ریلوے پر اب تک کتنا کام مکمل ہوچکا ہے؟

نئی شکل

کراچی سرکلر ریلوے سن 1960 کی سرکلر ریلوے کی طرح تو نہیں ہوسکتی۔ اس کا ڈیزائن ٹیکنالوجی میں جدت آنے کی وجہ سے تبدیل نہیں ہوا بلکہ ان دنوں کراچی بہت تیزی سے ترقی کر چکا ہے۔ آج شہر کے ٹریک اہم چوراہوں اور سڑکوں سے گزرتے ہیں اور اگر ڈیزائن میں ردوبدل نہ کی جائے تو شہر میں ٹریفک بہت جام ہوجائے گا۔ کراچی سرکلر ریلوے کی دوبارہ بحالی ایک بڑا چیلنج ہے جس میں ایک تجویز یہ تھی کہ ٹریک کے 65 فیصد حصے کو زمین کی سطح سے اوپر بنایا جائے۔ کے سی آر کے نئے ڈیزائن کی لمبائی 43.2 کلومیٹر ہے جو کہ ڈبل ٹریک پر مشتمل ہوگا جبکہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ کتنا حصہ سطح زمین سے اوپر ہوگا۔

اس منصوبے پر کام کرنے والے ایک افسر نے بتایا کہ 26.6 کلومیٹر کا حصہ زمین سے اوپر تعمیر کیا جائے گا لیکن سماء ڈیجیٹل کو موصول ڈیزائن کے مطابق زمین سے اوپر بننے والا حصہ ممکنہ طور پر 30.57 کلومیٹر ہوگا۔ سماء ڈیجیٹل کے پاس موجود دستاویزات کے مطابق کے سی آر کا نیا ڈیزائن ڈرگ روڈ اسٹیشن سے شروع ہو کر گلستان جوہر سے گزرتا ہوا گلشن اقبال تک جاتا ہے۔ وہاں سے یاسین آباد اور لیاقت آباد سے ہوتے ہوئے ناظم آباد جائے گا۔ اس کے بعد ٹریک کو منگھوپیر اور سائٹ ایریا سے گزار کر بلدیہ، لیاری، میری ویدر ٹاور، سٹی اسٹیشن، پی آئی ڈی سی اور کراچی کینٹ تک لے کر جایا جائے گا۔

آخر میں کے سی آر کا ٹریک شاہراہ فیصل کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے چنیسر، شہید ملت اور کارساز سے گزر کر واپس ڈرگ روڈ اسٹیشن پہنچے گا۔ ڈیزائن کے مطابق اس کے 24 پلیٹ فارمز ہوں گے جس میں سے 14 سطح زمین سے اوپر اور 10 زمین پر ہی تعمیر کیے جائیں گے۔ تمام اسٹیشنز میں پارکنگ کی سہولت بھی موجود ہوگی۔

نیا نظام

پاکستان میں وسیع پیمانے پر آج تک ٹرینیں انہیں پٹریوں پر چل رہی ہیں جو برطانوی راج دوران قائم کی گئی تھیں جبکہ کے سی آر بھی انہیں پٹریوں پر چلا کرتی تھیں۔

تاہم اب یہ نظام تبدیل ہونے والا ہے، نیسپاک کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق وہ پرانے براڈ گیج پٹریوں کو استعمال نہیں کریں گے اور معیاری پیمائش والی پٹریوں کے ساتھ کے سی آر کو دوبارہ بحال کریں گے۔

زرائع کے مطابق نئی پٹریوں کو لگانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ پرانی پٹریوں کو ٹھیک کرنے پر زیادہ لاگت درکار ہوگی کیونکہ بہت ساری جگاہوں سے پٹریاں غائب ہیں ، نئی پٹریاں لگانے کا عمل سستا اور جلد ہوجائے گا ۔

مزید برآں ، کے سی آر ٹرینیں ڈیزل انجنوں پر دوڑتی تھی، نئے منصوبے میں حکام الیکٹرک ٹرینوں پر غور کر رہے ہیں۔ ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ اس کیلئے ’تھرڈ ریل سسٹم اپنایا جائے گا‘۔

راستے کی بحالی

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹریک کو صاف کرنے کے ساتھ ساتھ حکام کو کچھ انفرااسٹرکچر بھی تبدیل کرنا ہوگا جو کے سی آر کے بند ہونے کے بعد تعمیر کی گئیں۔

جیسے حبیب بینک چورنگی پر ایک فلائی اوور ہے جو ٹریک کے بیچ میں آتا ہے، نئے ڈیزائن سے واقف ایک اہلکار نے بتایا کہ جن دنوں میں کے سی آرفعال تھی، اُس وقت پل کی تعمیر کی گئی تھی تاکہ ٹرین اس کے نیچے سے گزر سکے ۔ انہوں نے کہا کہ پل پہلے ہی خستہ حالت میں ہے اور راستہ بنانے کے لئے اسے مسمار کیا جائے گا۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ سندھ حکومت کے مابین اراضی کے تنازعہ کا معاملہ بھی ہے۔ سندھ حکومت نے ریلوے کو ٹرینیں چلانے کے لئے اراضی دی تھی لیکن اب وہ اسے واپس لینا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں کے سی آر کی ضرورت ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ریلوے ان اراضی کو واپس کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور بدلے میں متبادل اراضی یا معاوضہ مانگ رہی ہے۔

کیا یہ جلد تیار ہوجائے گا؟

سرکلر ریلوے کی بحالی ایک وسیع منصوبہ ہے جس میں بہت لاگت آئے گی۔ اس کی بحالی میں فی الحال 1،970 ملین ڈالر لاگت آرہی ہے، جس میں لوکوموٹوز شامل ہیں۔

ایک سینئر عہدیدار نے انکشاف کیا کہ اب تک سی ڈی ڈبلیو پی اور ای سی این ای سی نے اس کی منظوری دے دی ہے تاہم انہوں نے ریکارڈ پر آنے سے انکار کردیا۔

پروجیکٹ کے ڈیزائن کی بھی منظوری دے دی گئی ہے اور کنسلٹنٹس کا اندازہ تھا کہ تکنیکی لحاظ سے کے لیے تیار ہے، لہذا کاغذی کارروائی ، منصوبہ بندی ، ڈیزائننگ اور انجینئرنگ کا کام بھی مکمل دکھائی دیتا ہے۔

تاہم اس کے باوجود بھی اس کی بحالی میں اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے ؟ ایسا لگتا ہے کہ اس میں مالی مشکلات کا معاملہ ہے، ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے اصرار پر اس منصوبے کو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت شامل کیا گیا ہے لیکن ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ اس حوالے سے باضابطہ طور پر کسی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے ہیں۔

تاہم اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کیلئے کئی کاغذی کارروائی کرنا ہوں گی، عہدیدار نے بتایا کہ کے سی آر کو سی پیک کا حصہ بنانے کے لئے وفاقی حکومت کو چینی حکومت کو اعتماد میں لینا ہوگا اور ہمیں چین سے قرضے لینے کیلئے ضمانت دینا ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک کے تحت کے سی آر کے لئے ادائیگی کرنا بہت زیادہ مہنگا ہوگا کیونکہ چین سے ملنے والے قرضوں پر سود اس سے کہیں زیادہ ہوگا، جے آئی سی اے ہمیں 93.5 فیصد کے لئے قرض دینے کے لئے تیارتھاجس پر شرح سود 0.2 فیصد تھی، جے آئی سی اے کا قرض 40 سال میں واپس کرنا تھا جبکہ چین سے ملنے والے قرض کے شرائط و ضوابط اتنے آسان نہیں ہونگے۔

وفاقی حکومت نہیں چاہتی کہ صوبائی حکومت کے سی آر کی بحالی کا سہرا حاصل کرے۔

سرکلر ریلوے کی بحالی میں تاخیر کی ایک اہم وجہ وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان جھگڑا بھی ہے، ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ بھی امکان ہے کہ یہ منصوبہ جلد ہی ختم ہوجائے گا کیونکہ وفاقی حکومت کی طرف سے اس میں کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی ہے۔ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ صوبائی حکومت کے سی آر کی بحالی کا سہرا حاصل کرے۔

 اسی طرح جو خواتین آئی آئی چندریگر روڈ پر کام کرنے کیلئے آتی ہیں جب وہ یہ سنتی ہیں کہ مستقبل میں کے سی آر بحال ہوگی تو ہنس پڑتی ہیں۔ انہیں ایسی کوئی امید نظر نہیں آتی کہ ایسا کوئی پروجیکٹ بنے گا کیونکہ وہ ایک طویل عرصے سے اس طرح کے وعدے سنتی  آرہی ہیں کہ پبلک ٹرانسپورٹ کا بحران ختم کردیا جائے گا، لاکھوں افراد جن کو کراچی میں روزی کمانے کے لئے ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہے وہ حکومت اور حکام سے نالاں نظر آتے ہیں ۔ وہ ایسی بسوں کا خواب دیکھتے ہیں جس کا کرایہ وہ برداشت کرسکتے ہیں۔ جو ایئرکنڈیشن  اور صاف ستھری ہوں اور انہیں گھر سے با آسانی دفتر تک پہنچا دیں ،وہ ایک ایسے وقت کا خواب دیکھتے ہیں جس میں انہیں کام پر جانےکیلئے کسی بس کا انتظار نہ ہو۔

 

ایڈیشنل رپورٹنگ: سہیل خان                 انیمیشن: فیروز خان

منطر کشی: شیخ فیصل، عبیر خان          ویڈیو ایڈٹ: رحیم سجوانی

مترجم: عدیل طیب، قیصر کامران

 

Mass Transit

Tabool ads will show in this div