جج ارشد ملک معطل، خدمات واپس لاہور ہائیکورٹ کے سپرد

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو معطل کرتے ہوئے خدمات واپس لاہور ہائیکورٹ کے سپرد کردیں۔ عدالت عالیہ کا مؤقف ہے کہ ویڈیو معاملے پر جج ارشد ملک کی اپنی صفائی میں جاری پریس ریلیز اور بیان حلفی میں کی گئی باتیں مس کنڈکٹ کا اعتراف ہیں۔

احتساب عدالت کے جج کی ویڈیو کے معاملے پر نئی پیشرفت ہوگئی، جج ارشد ملک کی معطلی اور خدمات واپس لاہور ہائیکورٹ کے حوالے کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

وزارت قانون کی جانب سے جج ارشد ملک کی خدمات اسلام آباد ہائیکورٹ کے سپرد کی گئی تھیں جس کے بعد رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کی خدمات واپس لاہور ہائیکورٹ کے سپرد کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بادی النظر میں جج ارشد ملک مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں، ان کی پریس ریلیز اور بیان حلفی اس بات کا اعتراف ہے، انہیں معطل کرکے واپس لاہور ہائیکورٹ بھیجا جاتا ہے، ارشد ملک کیخلاف کارروائی لاہور ہائیکورٹ ہی کرے گی۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو اسلام آباد ہائیکورٹ طلب کرکے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے احکامات سے آگاہ کر دیا گیا۔

جج ارشد ملک نے متنازع ویڈیو سامنے آنے کے بعد اپنی صفائی میں اس بات کا اقرار کیا تھا کہ ملزمان ان پر اثر انداز ہونے کیلئے رابطے کرتے رہے، انہوں نے رائیونڈ میں نواز شریف سے ملاقات کا انکشاف بھی کیا تھا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا سنانے والے جج ارشد ملک کی متنازع ویڈیو مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف نے ایک پریس کانفرنس میں میڈیا اور قوم کے سامنے پیش کی تھیں، اس موقع پر شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف سمیت دیگر رہنماء بھی ان کے ہمراہ تھے۔

ARSHAD MALIK

video case

Tabool ads will show in this div