کوئٹہ کی مویشی منڈی میں کانگو پھیلنے کا خدشہ،شہر کے اسپتال سہولیات سے محروم

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/08/Animals-Congo-Qta-1200-Pkg-08-08.mp4"][/video]

عید الضحیٰ سے قبل کوئٹہ میں کانگو وائرس نے پھر سر اٹھالیا ہے، مویشی منڈیوں میں اسپرے نہ ہوسکا نہ ہی کوئی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

کوئٹہ کی مويشی منڈی ميں کانگو وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے۔ مشری بائی پاس منڈی میں چاليس ہزار سے زائد جانور موجود ہیں۔ یہاں نہ کوئی کوئي اسپرے ہوا اور نہ ہی حکومت کی طرف سے ويٹرنری ڈاکٹر تعينات کيا گيا۔ بیوپاری نے بتایا ہے کہ فی بکرا پچاس روپے لئے جاتے لیکن کوئی سہولیات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

ملک میں سب سے زيادہ کانگو کے کيسز بلوچستان سے سامنے آتے ہيں ليکن منڈي انتظاميہ کو چيچڑ کا پتہ نہیں ہے جس کے کاٹنے سے کانگو وائرس پھیلتا ہے۔

کوئٹہ، 4 ماہ کے دوران 11 مریضوں میں کانگو وائرس کی تصدیق

کوئٹہ کے فاطمہ جناح اسپتال ميں کانگو کا ايک وارڈ تو بنادیا گیا ہے ليکن يہاں مرض کی تشخيص کا کوئی بندوبست نہيں۔ متاثرہ شخص کا باقاعدہ علاج تب تک نہیں کیا جاتا جب تک اس کے خون کے نمونے کراچی سے ٹيسٹ ہو کر نہ آجائيں۔ اس عمل ميں تين دن لگ جاتے ہيں اور مريض تڑپتا رہتا ہے۔

کوئٹہ کے فاطمہ جناح اسپتال میں کانگو کا مریض دم توڑ گیا

انچارج کانگو وارڈ ڈاکٹر صادق نے تسلیم کیا ہے کہ ہمارے پاس اتنی خاص سہولیات نہیں ہیں اوراپنی مدد آپ ہی کام کررہے ہیں۔

پورے صوبے ميں صرف کوئٹہ کے اس اسپتال ميں کانگو وارڈ موجود ہے۔ یہاں آنے والے مریضوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ کانگو کے شبے میں جو مریض آتے ہیں اگر وہ کانگو کے مریض نہ بھی ہوں تو خدشہ ہوتا ہے کہ ان کو یہ مرض لگ سکتا ہے۔

Fatima Jinnah Hospital

Quetta Health

Tabool ads will show in this div