مسئلہ کشمیر پر اگرعالمی عدالتِ انصاف ميں جانا ہے تو سوچ بچار کرکے جائيں،راجہ ظفرالحق

پاکستان مسلم لیگ کے رہنما راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ بھارت کے اقدام پرغور و فکر کرنا بہت ضروري ہے،ايسا لگتا ہے کہ پاکستان بھارتي اقدام کيلئے تيار نہيں تھا۔

بدھ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن سے خطاب کرتےہوئے راجہ ظفر الحق نے بتایا کہ بھارت نے بڑی منصوبہ بندی سے آرٹيکل 370 کو ختم کيا،آرٹيکل 370 کا خاتمہ بي جے پي کا منشور تھا۔

انھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمير انتہائي سنجيدہ معاملہ ہے، يواين چارٹر کي خلاف ورزي کرنے والا اقوام متحدہ کا رکن نہيں رہ سکتا، ان خلاف ورزيوں کے باوجود بھارت اقوام متحدہ کي مستقل رکنيت چاہتا ہے، پاکستان دوست ممالک کي مدد سے بھارت کي مستقل رکنيت کو روکے۔

لیگی رہنما نے کہا کہ حکومت داخلي مسائل ميں الجھي ہوئي ہے، حکومت  ساری قوت اپوزيشن کو نيچا دکھانے ميں لگا رہي ہے، ہمارے ہمسائيہ اور دوست ممالک نے اس معاملے پر کوئي بھرپور جواب نہيں ديا، ترکي اور ملائيشيا کا کہنا کہ " نظر رکھيں گے" کافي نہيں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ پچھلے او آئي سي اجلاس ميں پاکستان سے بغير مشاورت کے بھارت کو بلايا گيا، بھارت خصوصي مہمان بن کر گيا اور پاکستان باہر بيٹھا رہا۔

راجہ ظفر الحق نے نکتہ اٹھایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمير پراپنا ثالثي کا بيان بدل ليا ہے، پہلے کہا تھا کہ ثالثي کيلئے تيار ہيں، پھر کہا کہ اگر دونوں ممالک چاہيں تو ثالثي کريں گے۔

لیگی رہنما نے تجویز دی کہ مسئلہ کشمیر پر اگرعالمي عدالت انصاف ميں جانا ہے تو سوچ بچار کرکے جائيں، ريکوڈيک کيس کي طرح عالمي عدالت انصاف ميں نہ جائيں۔

Joint session

Raja Zafar-ul-Haq

Tabool ads will show in this div