امریکا کی پہلی سیاہ فام نوبل انعام یافتہ ادیبہ انتقال کرگئیں

نوبل انعام یافتہ امریکی ادیبہ ٹونی موریسن 88 سال کی عمر میں نیویارک میں انتقال کر گئیں، وہ یہ اعزاز حاصل کرنیوالی پہلی افریقن امریکی تھیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی شہر نیو یارک سے ٹونی موریسن کے اہل خانہ نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ نوبل انعام یافتہ ادیبہ مختصر علالت کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ ان کا انتقال ہم سب کیلئے ایک بہت بڑا نقصان ہے، تاہم اس حوالے سے ہم شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ایک طویل اور بہت اچھی طرح بسر کی گئی زندگی گزاری۔

ٹونی موریسن امریکا کی وہ پہلی سیاہ فام مصنفہ تھیں، جنہیں 1993ء میں ادب کے نوبل انعام کا حقدار ٹھہرایا گیا تھا، انہوں نے یہ اعزاز سویڈن کے شاہ گسٹاف سے وصول کیا تھا۔

انہیں نوبل انعام دیئے جانے کی تقریب میں سویڈش اکیڈیمی کی طرف سے ان کے طرز تحریر، تحریروں کی لسانی انفرادیت اور ان کی بصیرت کی طاقت کو خاص طور پر سراہا گیا تھا۔

ٹونی موریسن کو ان کے ناول بی لووڈ ’’محبوب‘‘ کی وجہ سے 1988ء میں فکشن کا پولٹزر پرائز بھی دیا گیا تھا، یہ ناول ایک ایسی ماں کے بارے میں ہے، جس نے اپنی بیٹی کو غلامی کی زندگی سے بچانے کیلئے اسے قتل کر دینے کا المناک فیصلہ کیا تھا۔

ٹونی موریسن امریکا کے سیاہ فام ادیبوں میں بہت منفرد اور اعلیٰ مقام کی حامل تھیں اور انہیں افریقی نژاد امریکی مصنفین کی اہم ترین نمائندہ سمجھا جاتا تھا، ان کی اہم ترین تصنیفات میں 'انتہائی نیلی آنکھیں‘، 'سلیمان کا گیت‘، 'انسان کا بچہ‘، 'جاز‘ اور 'جنت‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

دنیا بھر میں ٹونی موریسن کے کروڑوں قارئین اور مداحوں میں مختلف براعظموں کے نوجوان طلبہ سے لے کر گھریلو خواتین اور سماجی جدوجہد کرنیوالے انسانوں تک ہر کوئی شامل ہے، موریسن کے امریکی قارئین کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، جن میں سے اہم ترین ناموں میں سے ایک نام سابق صدر باراک اوباما کا بھی ہے، ان ہی کے دور صدارت میں ٹونی موریسن کو امریکا کا 'صدارتی میڈل آف آنر‘ بھی دیا گیا تھا۔

USA

Nobel Prize Winner

Litrature

Tabool ads will show in this div