مسئلہ کشمیر، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اور کور کمانڈرز کانفرنس طلب

مقبوضہ کشمیر اور ایل او سی پر بھارتی دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے سفارتی پارلیمانی اور دفاعی محاذ پر ہنگامی تیاریاں شروع کر دی گئيں، وزارت انسانی حقوق نے کلسٹر بموں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھا دیا، پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس طلب کر ليا گيا، سپہ سالار نے کور کمانڈرز کانفرنس بھی کل ہی بلا لی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنازع کشمیر پر ثالثی کی پیشکش مسترد کرنے کے بعد بھارت غیر ذمہ دارانہ اقدامات اٹھانے لگا، وادی کی خصوصی حیثیت ختم کردی، کشمیریوں کا دنیا بھر سے رابطہ بھی ختم کردیا، انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کردی گئی جبکہ حریت رہنماؤں کو گرفتار و نظر بند کرکے عوام سے دور کردیا گیا۔

پاکستان نے بھارت کے جارحانہ اقدامات پر خاموش نہ رہنے کا فیصلہ کیا، نازک حالات اور آئندہ حکمت عملی پر غور کیلئے صدر مملکت نے منگل کو صبح 11 بجے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلا لیا، حکومت کی جانب سے موجودہ حالات پر پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

مزید جانیے : بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی ریاست کی حیثیت ختم کر دی

وزیراعظم عمران خان نے شرکت کیلئے وفاقی کابینہ کی منگل کو طلب بیٹھک بدھ تک ملتوی کردی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور کمانڈرز کانفرنس بھی منگل کو بلا لی، جس میں بھارت کے جارحانہ اقدامات اور ممکنہ ردعمل کی حکمت عملی پر بات ہوگی۔

وزارت انسانی حقوق نے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں، شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے اور کلسٹر بم برسانے کا معاملہ اقوام متحدہ کے سامنے اٹھا دیا۔

یو این ہیومن رائٹس کمیشن کو وفاقی وزیر شیریں مزاری نے خط لکھ کر تحقیقاتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیا، کہا پیلٹ گنز کے بعد اب کلسٹر بموں جیسے ممنوعہ ہتھیار استعمال کرکے بھارت انسانی حقوق ہی نہیں، بین الاقوامی قوانین کی بھی دھجیاں بکھیر رہا ہے۔​

NATIONAL ASSEMBLY

Joint session

Tabool ads will show in this div