تصادم کے بعد عالمگیر خان کی 2 مرتبہ گرفتاری و رہائی

سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی کے دفتر کے باہر پیپلزپارٹی اور فکس اٹ کے کارکنان کے مابین تصادم کے بعد پولیس نے دو مرتبہ عالمگیرخان کو گرفتار اور رہا کردیا۔ پولیس اور عالمگیر خان کے مابین آنکھ مچولی رات دیر تک جاری ہی۔

فکس اٹ کے کارکنان نے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان کے حلقہ سے کچرا اٹھا کر تین تلوار پر سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی کے دفتر کے باہر پھینکا جس پر پیپلز پارٹی کے کارکنان بھی موقع پر پہنچ گئے اور نوبت تصادم تک جا پہنچی۔

پولیس نے موقع پر پہنچ کر متعدد افراد کو حراست میں لیا۔ بعد ازاں عالمگیر خان خود ادھر آئے تو پولیس نے اسے بھی حراست میں لے لیا مگر کچھ دیر بعد چھوڑ دیا۔

رہائی کے بعد عالمگیر خان فریئر تھانے میں گرفتار کارکنان کو چھڑانے کیلئے پہنچے تو پولیس نے انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا اور رات 11 بجے چھوڑ دیا۔

دریں اثنا وزیر بلدیات کے دفتر کے باہر ہنگامے کا مقدمہ فیریئر تھانے میں درج کرلیا گیا جس میں عالمگیر خان سمیت دیگر 38 سے زائد افراد کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ مقدمہ میں ہنگامہ آرائی سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ ہنگامہ آرائی کے دوران ایس ایچ او اور ڈی ایس پی بھی زخمی ہوا۔

تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنان اور پولیس نے ملکر فکس اٹ کے ورکرز پر تشدد کیا ہے۔ ایس ایس پی ساؤتھ نے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تصادم میں دونوں اطراف کے کارکن زخمی ہوئے۔

وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا ہے کہ عالمگیر خان نے کئی بار وزیراعلیٰ اور میری تصاویر گٹر پر لگائی۔ کچرا اور گندا پانی وزیر اعلیٰ ہاؤس کے اندر پھینکا۔

انہوں نے کہا کہ فکس اٹ نے سوشل میڈیا پر احتجاج کی کوئی کال دی تھی۔ ہمارے کارکن آپس میں رابطہ کرکے میرے دفتر کے باہر پہنچے اور باہر کھڑے ہوکر نعرے لگاتے رہے۔

سعید غنی نے کہا کہ ہمارے 8 لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک کی کمر پر چاقو کا زخم آیا، ایک کارکن کے منہ پر نشان ہے۔ غالباً لاٹھی ماری گئی جب کہ 9 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا حق ہے لیکن دروازے پر آکر کچرا اور گندا پانی پھینکنا حق نہیں۔ عالمگیر خان ڈھکن چور کے نام سے مشہور ہیں، اس نے بزرگ رہنما قائم شاہ کی تذلیل کی لیکن ہم نے توہین پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ہم نے ہر احتجاج کو صبر سے برداشت کیا لیکن گھروں اور دروازوں پر ایسا تماشا نہیں کرنے دیں گے۔

fixit

Tabool ads will show in this div