تازہ ترین

الیکشن 2018 میں ہم پر ایک سلیکٹڈ حکومت مسلط کردی گئی، بلاول بھٹو

ملک بھر میں حزب اختلاف کي جماعتيں آج يوم سياہ منا رہي ہيں، کراچی ، لاہور ، پشاور ، راولپنڈی اور اسلام آباد میں اپوزیشن کی جانب سے پاور شو کیا گیا ، لاہور کے مال روڈ پر ن لیگ اور کراچي کے باغ جناح ميں پيپلزپارٹي نے ميدان سجايا، ديگر شہروں ميں بھي اپوزيشن رہنما حکومت پر گرجتے برستے رہے اور تبديلي سرکار کي پاليسيوں کو عوام دشمن قرار ديا۔

کراچی کے باغ جناح میں اپوزیشن جماعتوں کا جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ 2018 کے انتخابات میں ہم پر ایک سلیکٹڈ حکومت مسلط کردی گئی،سلیکٹڈ حکومت نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کي جمہوريت خطرے ميں ہے اس لیے آج ہم اس حکومت کےخلاف علم بغاوت بلند کررہے ہیں، یہ سلیکشن نہیں تو اور کیا ہے 25 جولائي ملکي تاريخ کا سياہ ترين دن ہے، پھر کہتے ہیں سلیکٹ نہ کہو،آپ بتادیں کیا کہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ ہے، عمران خان کا کوئی ایک وعدہ وفا نہ ہوسکا، عمران خان نے کہا تھا6 ماہ دیں، ہر چیز کا جوابدہ ہوں گا، جعلی حکومت،فراڈالیکشن کوہم نہیں مانتے۔

بلاول بھٹوزرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان کی نااہلی کی سزاعوام بھگت رہے ہیں، مہنگائی کا سونامی کھڑا کرکے غریبوں کا معاشی قتل کررہا ہے، موجودہ حکمرانوں کوغریبوں کےدکھ دردکااحساس نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئی ايک سياسی جماعت ملک کے مسائل حل نہيں کرسکتی، عوام کے جمہوری، انسانی، معاشی حقوق کے تحفظ کيلئے جمع ہيں،وفاق کی نالائقی کی وجہ سےصوبےدیوالیہ ہورہےہیں۔

چیئرمین پی پی کا مزید کہنا تھا کہ سلیکٹڈ حکومت کے خلاف سب کو مل کرجدوجہد کرنی ہوگی، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،ہماری تحریک جاری رہے گی، میرحاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ منتخب کریں گے۔

کراچي ميں پيپلزپارٹي کے تحت متحدہ اپوزيشن کا جلسہ باغ جناح میں منعقد کیا گیا تو گرومندر، لياقت آباد اور سولجربازار اور صدر اور اطراف کے علاقوں ميں بھي ٹريفک کا دباؤ رہا جبکہ ایم اے جناح ٹریفک کیلیے بند، شارع فیصل ، شاہراہ قائدین پر ٹریفک جام رہا ۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف اپوزیشن جماعتوں کے احتجاجی جلسے میں شرکت کیلئے کوئٹہ پہنچیں تو پشتونخوامیپ کے سربراہ محمود اچکزئی اور دیگر رہنماؤں نے ان کا ایئر پورٹ پر استقبال کیا۔

مریم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کا جلسہ حکمرانوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا، بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ آمرانہ قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے، جب بھی ملک میں کوئی جمہوری قوت اٹھی، وہ بلوچستان سے اٹھی ہے، بلوچستان کی سیاسی قوتوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے جلسے میں شرکت کی دعوت دی۔

ن لیگ کی نائب صدر کہتی ہیں کہ جلسے سے کافی امیدیں وابستہ ہیں، اپوزیشن کے ہمراہ حکومت کیخلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کوئٹہ پہنچے ہیں، میرے ساتھ اپوزیشن کے تمام نمائندے بھی ہیں۔

دوسری جانب اپوزشين ليڈرشہبازشريف لاہورماڈل ٹاؤن سے نکلے، فيروزپور کے رستے مال روڈ تک يہ ريلي شيڈول ہے مگريہاں جلسے کي اجازت نہيں ملي ہے، پوليس اورمظاہرين کے درميان ماحول رات سے کشيدہ ہے۔

پشاورميں يوم سياہ تيزہواؤں کي نذر ہوگيا جلسہ گاہ کے شاميانے اکھڑگئے بعد ازاں فضل الرحمان اوراحسن اقبال اورديگررہنما حکومت پر جم کر تنقید کی ۔

ملتان ميں پيپلزپارٹي اور ن ليگ والے يکجا ہوئے اور ٹائر جلاکراحتجاج کيا، ڈيرہ غازي خان ميں بھی اپوزیشن نے پيدل مارچ کيا گيا۔

سکھر میں جمعیت علمائے اسلام  کی جانب سے مظاہرے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے لگائے ، ٹھٹہ، سانگھڑ، ٹنڈو الہ يار، گھوٹکي، اور شہداد کوٹ ميں اپوزيشن نت ريلياں نکاليں  مظاہرے کيے۔

BILAWAL BHUTTO

jui f

black day

opposition parties

Tabool ads will show in this div