امید ہے اپوزیشن کیساتھ سینیٹ چیئرمین کی تبدیلی روکنے پر اتفاق ہوجائے گا،جام کمال

پی ٹی آئی سینیٹر شبلی فراز کا کہنا ہے کہ کوشش ہے سینیٹ کا وقار متاثر نہ ہو ، مولانا فضل الرحمان نے شفقت سے بات سنی ہے، امید ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان سینیٹ چیئرمین سے متعلق معاملات طے پا جائیں گے۔

بدھ کے روز حکومت اور جے یوآئی ف  کے سینیٹرز کے درمیان اہم ملاقات اسلام آباد میں ہوئی۔ ملاقات میں چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی اور جمع کرائی گئی درخواست پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد حکومت اور جے یو آئی ف  کے سینیٹرز کی جانب سے مشترکا پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کے سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی رابطہ کریں گے، کوشش ہے کہ ایسا حل تلاش کریں کہ تناؤ مزید نہ بڑھے۔ شبلی فراز کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن بھی یہ ہی چاہتی ہے کہ سینیٹ کا وقار مجروح نہ ہو، کوشش ہے کہ سینیٹ کا وقار متاثر کیے بغیر معاملات طے ہوجائے۔

شبلی فراز

مولانا فضل الرحمان سے متعلق سوال پر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے تسلی اور تحمل سے بات سنی ہے، سینیٹ سیاسی برادری کا اہم ادارہ ہے، چیئرمین سینیٹ کے انتخاب سے بدمزگی پیدا ہوگی، ہم نے اپنے خیالات مولانا کے سامنے پیش کیے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ سینیٹ کے وقار کو بچایا جائے اور اس میں ساری پارٹیوں کو حصہ ڈالنا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ مولانا فضل الرحمان سینیٹ کے وقار کا خیال رکھیں گے۔

جام کمال

مشترکا پریس کانفرنس سے خطاب میں بلوچستان کے وزیر اعلی جام کمال کا کہنا تھا کہ کوشش ہے مل کر ایسا فیصلہ کریں جس سے چیزیں بہتر ہوں، تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ مولانا کا اکیلے نہیں پوری اپوزیشن کا ہے، صادق سنجرانی کا تعلق ہماری جماعت سے ہے، امید ہے کہ فضل الرحمان اس معاملے میں مثبت کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انفرادی طور پر معاملے کو نہیں دیکھ رہے، لگتا ہے کہ اپوزیشن کے اقدام سے کچھ ایسے نتائج نکلے جو اس ہاوس کیلئے اچھے نہ ہوں، اس لیے امید کرتے ہیں کہ وہ ایک سینیر سیاست دان ہیں جو امید ہے کہ بہتر فیصلہ کرینگے، ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر گیا، ڈیڑھ سال ابھی باقی ہے ۔

مولانا فضل الرحمان

میڈیا سے گفت گو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن ایک لمبا سفر کرچکی ہے، شبلی فراز اور جام کمال کے ساتھیوں کو اپنے گھر میں خوش آمدید کہا ہے، ايسي تجاويز ہوں جو اپوزيشن جماعتوں کے سامنے رکھي جاسکيں، حکومتي وفد کا آنا ہي کافي نہيں، کچھ تجاويز بھي ہوني چاہيے، تحريک عدم اعتماد پر تمام اپوزيشن جماعتوں کا اتفاق ہے، تحريک عدم اعتماد لانے کافيصلہ اے پي سي ميں ہوا تھا، اس موقع پر اتنا آگے چل کر تحریک واپس لینا ممکن نہیں ہوسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ آگےآگے دیکھیں ہوتا ہے کیا، اللہ  آگے بہتر کرے گا، بلاول بھٹو اور شہباز شریف سے بھی مشاورت لازمی ہے، رہبر کمیٹی کے ذمہ داران امید ہے کہ اس میں اپنا کردار ادا کر سکیں گے، ایک سوال کے جواب میں فضل الرحمان نے کہا کہ نہ ہمیں مشکل میں ڈالیں نہ ساتھ والوں کو مشکل میں ڈالیں۔

FAZL UR REHMAN

Senate Chairman

SHIBLI FARAZ

JAM KAMAL

Rehbar Committee

Tabool ads will show in this div