کالمز / بلاگ

اندھے، ریوڑیاں اور کپتانی تقسیم

پاکستان ایک زرعی ملک ہے، جس کا زیادہ تر دارو مدار زراعت پر ہے۔ زراعت ہماری سیاست، ثقافت اور طرزِ معاشرت کی علامت بھی ہے۔ زراعت جہاں قوم کی غذائی ضروریات پوری کرتی ہے، وہیں خام مال کی صورت میں فیکٹریز کو بھی چلانے کا سہرا زراعت کے سر ہے۔ کسی دور افتادہ گاؤں میں چلے جائیں یا گنجان آباد شہر پر نظر دوڑائیں ہر فرد زراعت سے جڑا ہوا ہے۔ سیاست دان اسی زراعت کی بدولت کرسی اقتدار پر براجمان ہوتے ہیں۔ گاؤں کے امیر کسانوں نے فیکٹریز لگائیں اور پھر وہی خاندان سیاست پر قابض ہوگئے۔ یعنی پیسہ کمانے اور اس کو تحفظ دینے کیلئے سیاست و اقتدار لازمی و ملزوم ہیں۔ پاکستانی سیاست پر نظر دوڑائی جائے تو چھوٹے گاؤں کا زمیندار ضلعی انتخابات جبکہ بڑی زمینوں کے مالک قومی اور صوبائی اسمبلیوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہ سیاست دان اقتدار حاصل کرنے کے بعد صرف اپنے ہی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔

گذشتہ دنوں خبر آئی کہ حکومت نے بااثر تاجروں، صںعتکاروں اور کھاد فیکٹریوں کیلئے ایمنسٹی اسیکم تیار کرلی ہے۔ یہ اسکیم پاکستانی تاریخ کی دوسری سب سے بڑی اسیکم ہوگی۔ اس سے قبل حکومت نے 280 ارب روپے قرض کی رقم معاف کی تھی۔ جس سے موجودہ سیاستدانوں کی کثیر تعداد نے فائدہ اٹھایا تھا۔ حکومتی آرڈیننس کے مطابق کیپٹو پاور پلانٹس کے مالکان کو 91 ارب، سی این جی مالکان کو 80 ارب روپے، آئی پی پیز کو 4.8 ارب روپے، کے الیکٹرک اور جنکوز کو 28 ارب روپے معاف کرنے کی منظوری دی جائے گی۔ اس سبسڈی کے باجود کھاد کمپنیوں نے کسانوں سے 405 روپے فی بوری وصول کرنے کے باوجود 138 روپے جمع کئے مگر تاحال وہ سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرائے۔ سرکاری اسکیم سے فائدہ حاصل کرنے والی کمپنیوں نے 2012 سے دسمبر 2018 تک عوام سے 701 ارب روپے کی وصولی کی جبکہ قومی خزانے میں صرف 285 ارب روپے جمع کرائے گئے۔

یہ اعداد و شمار تو سرکاری سطح پر سامنے آگئے لیکن بعض اوقات خاموشی کیساتھ ہی ایسے فیصلے کر دئیے جاتے ہیں جن کی عوام کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوتا۔ عوام اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ شوگر ملز کو سبسڈی دینے سے، سی این جی مالکان کو نوازنے کا اور مخصوص زمینداروں کو ریلیف دینے کا براہ راست کس کو فائدہ ہوتا ہے۔

غریب عوام کے نام پر عام آدمی کے ووٹ سے منتخب ہوکر سیاستدان کرسی اقتدار پر براجمان ہوجاتے ہیں لیکن کرسی پر تشریف رکھنے کے پانچ سالوں تک عوام کی خبر تک نہیں لیتے۔ عوام کس حال میں ہیں؟ منتخب نمائندوں کی اس بات کی فکر نہیں ہوتی، وہ بس اس فکر میں مبتلا رہتے ہیں کہ کب؟ کہاں اور کیسے؟ وہ اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں۔ پالیسز بنتی ہیں تو اس میں بھی وہ اپنا فائدہ تلاش کرتے ہیں۔ عوام کو ریلیف دیتے وقت بھی سیاستدان سب سے پہلے اپنا فائدہ ہی ڈھونڈتے ہیں۔ حالیہ رپورٹ ہی کی مثال لے لیں، مختلف صنعتکاروں، زمینداروں اور تاجروں نے تو حکومت سے سبسڈی حاصل کرلی، لیکن اس سبسڈی سے عوام کو رتی بھر بھی فائدہ حاصل نہیں ہوسکا۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے منشور میں طاقتور اشرافیہ کو فائدہ دینے کی بجائے عوام کا معیار بلند کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن اقتدار میں آتے ہی وزیراعظم بظاہر حکمران اشرافیہ کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اردو کا ایک محاورہ ہے کہ اندھا بھی اپنوں ہی میں ریوڑیاں تقسیم کرتا ہے۔ وزیراعظم کو اشرافیہ کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کی بجائے عوام کی بہتری کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے اور انہوں نے عوامی فلاحی ریاست کا پیغام دے کر ان کے آنکھوں میں امید کے جو دیپ جلائے ہیں انہیں مدھم نہیں ہونے دینا۔ اگر وزیر اعظم عوامی امنگوں کے ترجمان بن گئے تو یہی عوام ان کی پشت پر کھڑی ہوگی۔ لیکن خدانخواستہ موجودہ قیادت بھی سابقہ حکمرانوں کی روش پر چلتی رہی تو یہی عوام بپھرے دریا کی وہ موجیں ثابت ہوں گے جو تمام حفاظتی بند اور پشتے توڑتے ہوئے اقتدار کے ایوانوں میں تباہی مچا دیں گے۔

PM IMRAN KHAN

pti govt

Tabool ads will show in this div