کونسی سہولیات ہیں جو وزيراعظم واپس لیں گے؟ آصف زرداری

Jul 22, 2019
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/07/MA-JAIL-FACILITIES-PKG-KAZIM-22-07.mp4"][/video]

سابق صدر آصف زرداري نے وزیر اعظم کے بیان پر اپنا ردعمل دے دیا جبکہ مريم اورنگزيب نے کہا کہ تقرير سن کر ايسا لگا جيسے وزيراعظم نہيں بلکہ جيل سپريٹنڈنٹ بول رہا ہو۔

وزيراعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ روز امریکہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ نوازشريف کہتے ہيں ايئرکنڈيشن لگا دو، اب جيل ميں ٹي وي چاہيے، واپس جا کر يہ سہولتيں ختم کروں گا، آصف زرداري آپ کو بھي جيل ميں اے سي اور ٹي وي کے بغير رکھيں گے، خاقان عباسي بار بار تقرير کررہے تھے غلط کيا تو جيل ميں ڈال دو، اب جیل میں ڈال ديا ہے۔

واشنگٹن ميں عمران خان کے اعلان پر مفاہمت کے بادشاہ آصف علی زرداری نے بھی اپنا ردعمل دے دیا، احتساب عدالت ميں پيشي کے موقع پر سابق صدر نے کہا کہ سہولتيں کون سی ہيں جو ہم سے ليں گے ؟

صحافي نے سوال کیا کہ ٹي وي اور اے سي اور ديگر سہولتيں ؟ آصف زرداري : ٹي وي ہے نہيں ، صحافي نے سوال پھر پوچھا اور اے سي وغيرہ ؟ جس پر آصف زرداري نے کہا کہ اس کو بولو ہم پہلے ہي بيرکوں ميں رہنے کے قابل ہيں ۔

مسلم ليگ ن کي ترجمان مريم اورنگزيب نے کہا نوازشريف ٹي وي نہيں ديکھتے جبکہ ثابت ہوگيا خاقان عباسي کوانتقامي کارروائي کا نشانہ بنايا گيا ۔

ترجمان مسلم ليگ ن کا کہنا تھا کہ مجھے لگ رہا تھا جيل سپرنٹنڈنٹ بول رہا ہے یا نيب کا تحقيقاتي افسر بول رہا ہے، عوام ٹي وي ديکھ رہے ہيں جن کا ٹي وي آپ چھين نہيں سکتے جو ديکھ رہے ہيں کہ آپ کيا کر رہے ہيں۔

مسلم ليگ ن کي ترجمان کہتي ہيں کہ جسے روٹي ميسر نہيں ، جس نوجوان کے پاس روزگار نہيں وہ عمران خان کو اين آر او نہيں دے گا ۔

IMRAN KHAN

PML N

ASIF ZARDARI