جج ویڈیو کیس، ملزم طارق 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

جج ارشد ملک ویڈیو کیس کے مرکزی ملزم میاں طارق کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ايف آئي اے) نے تين روزہ جسماني ريمانڈ مکمل ہونے پر ملزم میاں طارق کو اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیش کيا۔

ايف آئي اے نے مؤقف اپنايا کہ میاں طارق سے جو چیزیں حاصل کرنی تھی وہ ہوگئی۔ ملزم طارق ملک نے عدالت کو بتايا کہ مجھے برین ٹیومر ہے اور جیل بھیجا گیا تو مر جاؤں گا۔

عدالت نے ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجتے ہوئے حکم دیا کہ طارق ملک کو جيل ميں طبی سہولیات دی جائیں۔

مبینہ ویڈیو کیس، گرفتار ملزم میاں طارق جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے ویڈیو کیس میں ملوث ملزم میاں طارق کو بدھ 17 جولائی کو گرفتار کیا تھا۔ منگل 16 جولائی کو مبینہ ویڈیو کیس میں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 23 جولائی کو تجاویز طلب کی ہیں۔

جج ارشد ملک نے اپنی مبینہ ویڈیو سامنے آنے پر ایک وضاحتی بیان جمعہ 12 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروایا تھا۔

اپنے بیان میں انہوں نے خود پر لگے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ شریف خاندان کی جانب سے مجھے رشوت کی پیشکش کی گئی اور مختلف مواقع پر کی گئی گفتگو کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا جبکہ تعاون نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

یاد رہے کہ ہفتہ 6 جولائی کو مریم نواز نے صدر ن لیگ شہباز شریف کے ہمراہ کی جانے والی ایک پریس کانفرنس کے دوران العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ اعترافی ویڈیو میڈیا کے سامنے پیش کی تھی۔

Mian Tariq Malik

NAB court judge

Arshad Malik video

Tabool ads will show in this div