مبینہ اعترافی ویڈیو کیخلاف جج ارشد ملک کی ایف آئی آر

نواز شریف کو سزا سنانے سے متعلق مبینہ اعترافی ویڈیو کے بعد احتساب عدالت سے ہٹائے جانے والے جج ارشد ملک کی درخواست پر ایف آئی اے نے ناصر بٹ، میاں طارق اور ناصر جنجوعہ سمیت چھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

جج ارشد ملک نے ويڈيو بنانے والوں اوراسے مشتہر کرنے والوں کے خلاف ايف آئی اے سائبر کرائم سينٹر ميں 16 جولائی کی رات کو ايف آئی آر درج کرائی تھی جس میں میاں طارق، میاں رضا، ناصر جنجوعہ، ناصر بٹ، خرم یوسف اور مہرغلام جیلانی کو نامزد کیا گیا ہے۔

مقدمہ پیکا ایکٹ اور الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کی دفعات 13، 20، 21 اور 24 کے تحت درج کیا گیا۔ ملزمان کیخلاف سائبر کرائم مقدمے میں 8دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی اے نے مقدمے میں نامزد 5 افراد کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جبکہ میاں طارق پہلے سے ہی گرفتار ہیں۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو فوری طور پر ہٹانے کا فیصلہ

ایف آئی آر کے متن کے مطابق ارشد ملک کا کہنا ہے کہ پندرہ سال پہلے میاں طارق نے نشہ آور چیزیں پلا کر ویڈیو بنائی تھی۔ میاں طارق نے چند ماہ پہلے ہي يہ ویڈیو لیگی کارکن میاں رضا کو فروخت کی ۔ ناصرجنجوعہ ودیگر نے وہی ویڈیو دکھا کر بلیک میل کرنے کی کوشش کی اور زبردستی متنازع بیان دینے کیلئے دباؤ ڈالا۔

ارشد ملک کا کہنا تھا کہ مریم نوازاوردیگر لیگی رہنماؤں کی پریس کانفرنس دیکھ کردھچکا لگا۔ ٹمپر کی گئی ویڈیو میری اور عدلیہ کی کردار کشی کی گئی۔ ویڈیو دکھانے والے تمام کردار الیکٹرانک جعلسازی کے مرتکب ہوئے۔

ارشد ملک کو ہٹائے جانے کے فیصلے پر مریم نواز کا ردعمل

ارشد ملک نے مریم نواز، شہبازشریف ، شاہد خاقان عباسی ، پرویزرشید، عظمیٰ بخاری سمیت 6 لیگی رہنماؤں کےخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی، ان کا موقف ہے کہ ویڈیو بنانے، دکھانے اور معاونت کرنے والے تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

مبینہ ویڈیو کیس، میاں طارق جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی کےحوالے  

یاد رہے کہ ہفتہ 6 جولائی کو مریم نواز نے صدر ن لیگ شہباز شریف کے ہمراہ کی جانے والی ایک پریس کانفرنس کے دوران جج ارشد ملک کی مبینہ اعترافی ویڈیو میڈیا کے سامنے پیش کی تھی۔

بطوراحتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اہم لیگی رہنماؤں کے ہمراہ کی جانے والی پریس کانفرنس میں مریم نواز نےجو ویڈیو دکھائی اس میں جج ارشد ملک ن لیگ کے ایک ناصر بٹ کو کہہ رہے ہیں کہ ان پر یہ فیصلہ سنانے کیلئے دباؤ ڈالا گیا تھا۔

Judge Arshad Malik

video case

Tabool ads will show in this div