خیبرپختون خوا میں 18 سال سے پہلے شادی پر پابندی کے لیے قانون سازی جاری

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/07/Marriages-Ban-Psh-Pkg-16-07.mp4"][/video]

خیبر پختونخوا حکومت نے مذہبي ہم آہنگي کے فروغ کو يقيني بنانے کے لئے صوبائی اور ضلع سطح پر مشائخ کونسل بنانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ 18 سال سے پہلے شادی پر پابندی کے لئے قانون سازي بھي کي جا رہي ہے۔

خيبر پختونخوا کے محکمہ اوقاف کو فعال بنانے کا آغاز کردیا گیا ہے۔ مسلکي اختلافات کے خاتمے کے لئے صوبائی اور ضلعي سطح پر مشائخ کونسل بنانے کا ٹاسک ان کے حوالے کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ اوقاف کي ہزاروں ايکڑ اراضي قابضين سے خالي کرانے اور اس سے آمدن کے لئے ضلعي ايڈمنسٹريٹر مقرر کرنے کا بھي فيصلہ ہوچکا ہے۔

صوبائی وزیراطلاعات شوکت یوسف زئی نے بتایا کہ صوبے ميں  18 سال سے کم عمر لڑکیوں  کی شادی پر پابندی لگانے کے لئے قانون سازي کي جارہي ہے جبکہ مسیحی افراد کی شادی اور طلاق کا ترمیمی بل بھي لايا جارہا ہے۔

صوبے میں آئمہ کرام کو ماہانہ مشاہرہ دينے کي سمري تيار کرلی گئی ہے اور مساجد کي سولرائزيشن، مدارس کے طلبہ اور اقليتوں کو وظائف دينے کے کئي منصوبوں پر بھي کام ہورہا ہے۔

Marriage Bill

Tabool ads will show in this div