کلبھوشن یادو کیس، عالمی عدالت آج فیصلہ سنائے گی

Jul 17, 2019

پاکستان میں قید بھارتی خفیہ ایجنسی را کے جاسوس کلبھوشن یادیو کو رہائی ملے گی یا بھارتی درخواست خارج ہو جائے گی۔ عالمی عدالت انصاف اہم کیس کا فیصلہ آج شام سات بجے سنائے گی۔

دی ہیگ میں ہونے والے کلبھوشن یادیو کیس کے فیصلے کے موقع پر پاکستان کی نمائندگی اٹارنی جنرل انور منصور اور ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل سمیت پاکستانی وفد کرے گا۔ بھارت نے پاکستان میں پکڑے جانے انڈین نیوی کے کمانڈر کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا تھا۔

عالمی عدالت نے بھارتی درخواست پر بائيس فروری کو سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ اہم اور بڑا سوال یہ ہے کہ کلبھوشن یادیو رہا ہو گا یا نہیں؟، تمام نظریں عالمی عدالت انصاف پر لگی ہیں۔

اپنی اعترافی ویڈیو میں بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر کلبھوش یادیو یہ تسلیم کر چکا ہے کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ایجنٹ ہے جسے پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے لیے بھیجا گیا تھا۔

 

عالمی عدالت انصاف کے اعلامیے کے مطابق کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ آج برطانیہ کے وقت کے مطابق دن تین بجے اور پاکستانی وقت کے مطابق شام سات بجے دی ہیگ کے پیس پیلس میں سنایا جائے گا، فیصلہ پبلک سٹنگ کے دوران آئی سی جے کے جج عبدالقوی احمد پڑھ کر سنائیں گے۔

 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کیس کا فیصلہ 21 فروری کو محفوظ کر لیا گیا تھا۔ قبل ازیں کیس کی آخری سماعت میں پاک بھارت دونوں وفود نے شرکت کی تھی جہاں پاکستانی وفد کی سربراہی اٹارنی جنرل انور منصور خان نے، جب کہ بھارتی وفد کی سربراہی جوائنٹ سیکرٹری دیپک متل نے کی تھی۔

 

سماعت کے دوران پاکستان کی طرف سے خاور قریشی نے بھرپور کیس لڑا تھا جبکہ بھارت کی طرف سے ہریش سالوے نے دلائل پیش کیے تھے۔ گزشتہ سماعتوں میں بھارت عالمی عدالت میں یہ بات ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ کلبھوشن یادو کے پاس دو پاسپورٹ کہاں سے آئے؟۔

کلبھوشن کب گرفتار ہوا؟

بھارتی نیوی کے حاضر افسر کلبھوشن یادیو کو  3 مارچ سال 2016ء کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، جسے پاکستان ملٹری کورٹ کی طرف سے سزائے موت دی گئی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 10 اپریل 2017ء کو کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کی توثیق کی۔ کلبھوشن نے رحم کی اپیل کی تھی جب کہ مئی 2017ء کو بھارت معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے گیا اور کلبھوشن کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد رکوانے کے لیے درخواست دائر کر دی تھی۔

بھارت نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس سے کمانڈر جاسوس کلبھوشن کی بریت، رہائی اور واپسی کا مطالبہ کیا، جب کہ پاکستان کے وکیل بیرسٹر خاور قریشی نے تحریری اور زبانی دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئی سی جے کو بھارت کو کوئی ریلیف نہیں دینا چاہیے۔

Indian agent

INDIAN SPY

KULBHUSHAN JADHAV

kulbhushan yadhav

International Court of Justice

Tabool ads will show in this div