دنیا بھر کے کشمیری آج یوم شہدا کشمیر منا رہے ہیں

دنیا بھر کے کشمیری آج یوم شہداء کشمیر منا رہے ہیں۔ کل جماعتی حریت رہنماوں کی کال پر آج مقبوضہ وادي ميں مکمل طور ہڑتال کي جائے گي۔

تیرہ جولائی انیس سو اکتیس کو ڈوگرا مہاراجہ کی فوج نے سرینگر سینٹرل جیل کے باہر احتجاج کرنے والے بائیس کشمیریوں کو فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا، مقبوضہ کشمیرمیں صورت حال انیس اپریل انیس سو اکتیس کو خراب ہوئی تھی۔

اس روز ہزاروں کشمیری عبدالقدیر نامی شخص کے خلاف مقدمے کی سماعت کے موقع پر ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جیل کے باہر جمع ہوئے تھے۔ عبدالقدیر نے کشمیریوں کو ڈوگرہ راج کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کیلئے کہا تھا، اس دوران نماز ظہر کا وقت ہوا تو ایک نوجوان اذان دینے کیلئے اٹھا، ڈوگرہ فوجیوں نے اذان دینے والے نوجوان کو گولی مار کو شہید کر دیا جس کے بعد ایک اور نوجوان نے اٹھ کر اذان جاری رکھی اور اسے بھی فوجیوں نے گولی مارکر شہید کردیا، اس طرح سے اذان مکمل ہونے تک بائیس نوجوانوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی۔

یوم شہداء کے موقع پر قابض انتظامیہ نے حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو جمعہ کو گھر میں نظر بند کر دیا، جب کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی پہلے ہی 2010 سے گھر میں نظر بند ہیں، پروگرام کے مطابق میر واعظ عمر فاروق کو سرینگر کی تاریخی جامع مسجد سے مزار شہداء نقشبند صاحب تک ایک جلوس کی قیادت کرنی ہے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس اور میر واعظ عمر فاروق نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ ان شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مشترکہ طور پر ناانصافی، شخصی راج، جبری تسلط اور مسلح جارحیت کے خلاف جہاد کیا جائے۔

انتظامیہ نے جمعہ کو ڈاﺅن ٹاﺅن سرینگر کے مختلف علاقوں میں پابند یاں نافذ کر دیں اور مارچ کو ناکام بنانے کیلئے بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر دیے، پابندیوں کی وجہ سے سرینگر کے علاقے نوہٹہ میں واقع جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا نہیں کی جا سکی۔

تاجروں، پھلوں کے کاشت کاروں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے سوپور فروٹ منڈی میں جمعہ کو امرناتھ یاترا کے دوران سرینگر جموں ہائی وے پر عام ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

indian police

Indian Soldiers

Youm-e-Shuhada Kashmir

Kashmir Martyrs' Day

Abdul Qadeer

maharaja

Tabool ads will show in this div