چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی مخالفت کریں گے، وزیراعلیٰ بلوچستان

بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف اگر تحریک عدم اعتماد لائی گئی تو ’جمہوریت پسند قوتیں‘ اس کی بھر پور مخالفت کریں گی۔

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی پر اتفاق کے بعد جام کمال خان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان سے ماضی میں معافی مانگنے والے آج خود وفاق میں بلوچستان کی نمائندگی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے سے بلوچستان کے احساس محرومی اور جمہوریت کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوگا۔

جام کمال خان نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے آج چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ بلوچستان کے عوام کے لئے باعث تشویش ہے۔ چیئر مین سینیٹ وفاق کی علامت ہے جسے ہٹانے سے وفاق کمزور ہوگا لیکن کچھ سیاسی جماعتیں بلوچستان کی محرومی اور پسماندگی کو نظر انداز کرتے ہوئے سیاسی بنیادوں پر صوبے کو اس عہدے سے محروم کرنا چاہتی ہیں جو کہ بلوچستان کے احساس محرومی میں اضافے کا سبب ہوگا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے دوران صادق سنجرانی کی حمایت کرنے والی جماعتیں آج خود اپنے موقف سے پیچھے ہٹ رہی ہیں جس سے یہ واضح ہورہا ہے کہ انہیں بلوچستان کے مفادات سے زیادہ اپنے ذاتی مفادات عزیز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی مخالفت میں چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے سے اپوزیشن جماعتوں کو کیا فائدہ ہوگا یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ بلوچستان میں بھی جمہوری انداز میں تبدیلی لائی گئی تھی لیکن وہ وقت اور حالات کی ضرورت تھی کہ بلوچستان کو اس کی حقیقی نمائندگی دی جائے لیکن وفاق میں اس طرح کے اقدام سے ملک اور جمہوریت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب سابق صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس کی راہداری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ صادق سنجرانی کی اس لیے حمایت کی تھی بلوچستان کے احساس محرومی کا ازالہ ہوجائے مگر وہ جمہوری راستے کے بجائے اشاروں پر چل رہے اور دوسروں کو بھی اشاروں پر چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔

SENATE

Politics

Jam Kamal Khan

Tabool ads will show in this div