غریبوں اور بےروزگاروں کو حکومت اگلے ہفتے سے بلاسود قرضے دے گی

Jul 07, 2019
  [video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/07/Dr-Sania-Nishtar-Pc-Isb-06-07.mp4"][/video]

وزیراعظم کی معاون خصوصی ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ غربت ختم کرنے کے پروگرام کے تحت مزید افراد کو بلا سود قرضہ فراہم کیا جائے گا جبکہ ووکیشنل اور اسکل ٹریننگ بھی دی جائے گی۔

ثانیہ نشتر نے اپنے ٹویٹ میں بتایا کہ احساس پروگرام ان افراد کیلئے شروع کیا گیا ہے، جو بیروزگار اور مستحق ہیں، ان افراد کو بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں گے، جب کہ کم آمدنی والوں کو معاشی ترقی کا حصہ بنایا جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تین بنیادی نکات ہیں جن میں بلاسود قرضے،ووکیشنل اور اسکلز ٹریننگ، جائیداد کی منتقلی شامل ہے۔ اس پروگرام کے تین اہم حصے بھی ہیں جن میں ذرائع کا بہترین استعمال، شراکت داری کے ذریعے مدد کی فراہمی اور حکومتی سرپرستی میں تعاون شامل ہے۔

اس پروگرام کے تحت 42.65 ارب روپے کے فنڈز جمع کئے گئے ہیں۔ ایشین ڈولپمنٹ بینک، انٹرنینشل فنڈ فار ایگری کلچر، وفاقی حکومت ،پنجاب حکومت نے اپنے بجٹ میں اس پروگرام کی لیے رقم مختص کی ہے۔ ذرائع کو نشاندہی کرکے اس پروگرام کومزید کامیاب بنایا جاسکتا ہے۔

ثانیہ نشتر نے اپنے ٹویٹ میں یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں غربت کم کرنے کے لئے بنائے گئے فنڈ سے احساس پروگرام شروع کیا جائے گا۔ 22 دیگر این جی اوز کی مدد سے بلا سود قرضوں کی فراہمی ہوگی۔ اس مقصد کے لیے اخوت تنظیم مائیکرو فنانسنگ کی سب سے بڑی غیر سرکاری تنظیم ہے جو بلا سود قرضے دینے میں مہارت رکھتی ہے۔

غربت مٹاؤ پروگرام، وزیراعظم آج قرض کی رقم کے چیک تقسیم کریں گے

اس مقصد کے تحت اگلے 4 سال تک ہر ماہ 80 ہزار بلا سود قرضے فراہم کئے جائیں گے۔ قرض کی لاگت 20 ہزار سے 75 ہزار روپے کے درمیان ہوگی۔ اس پروگرام سے ساڑھے 14 لاکھ افراد فیض یاب ہونگے۔

احساس پروگرام کو آنے والے ہفتے میں لانچ کیا جارہا ہے۔ یہ پروگرام شفاف،احتسابی عمل اور بھرپور نتائج دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت عوامی ذرائع کا مناسب استعمال ہوگا۔ اس پروگرام میں ایسے لوگوں کو فوقیت دی جائے گی جو حقیقتا مستحق ہونگے۔

احساس پروگرام سے 80 ہزار افراد کو ہر مہینے بلا سود قرضے دینگے،ثانیہ نشتر

اس کے علاوہ، گذشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے احساس پروگرام سے متعلق تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ بہت سے لوگوں کی زندگی میں چھوٹے قرضوں سے انقلاب آسکتا ہے اور مقصد کے لئے بے روزگارافراد کیلئے پروگرام لایا گیا، جس کے تحت حکومت ہر ماہ لوگوں کو بلاسود قرضے فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ لاکھوں افراد ہنر کی تعلیم سے مستفید ہونگے، جب کہ غربت کے خاتمے کے پروگرام میں این جی اوز کو بھی شامل کیا گیا ہے، پروگرام کے تحت مستحق افراد کو قرضے ملیں گے، عوام کی فلاح و بہبود کیلئے شروع کیے گئے پروگرامز کے جلد عام آدمی کی زندگی پر مثبت اثرات نظر آئیں گے، لوگوں کو معاشی ترقی کے دھارے میں شامل کیا جائے گا۔۔

معاون خصوصی کا مزید کہنا تھا کہ عوام کی ترقی اور فلاح کیلئے 3 ارب روپے کے بلا سود قرضے دیئے گئے، احساس پروگرام سے لاکھوں افراد ہنر کی تعلیم سے مستفید ہونگے۔ اس پروگرام کی بنیاد ایسے لوگوں کیلئے رکھی گئی ہے جن کے پاس نوکریاں نہیں، جب کہ پروگرام شروع کرنے کا بنیادی مقصد عام آدمی کی معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔

حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے احساس پروگرام کا سب سے نمایاں پہلو آئین کے آرٹیکل ڈی - 38 میں تبدیلی لانا ہے۔ یہ ایک پالیسی ہے جس میں تبدیلی لا کر اسے بنیادی انسانی حقوق کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ جس سے عوام کو خوراک اور رہائش کی بنیادی سہولیات مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہو گا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں حکومت کو جوابدہ ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

 

Sania Nishtar

National Poverty Graduation Initiative

NPGI

Tabool ads will show in this div