کالمز / بلاگ

مارخور کی ٹرافی ہنٹنگ نے علاقے کی قسمت بدل دی

پاکستان کے قومی جانور مارخور کو مارنے کے لیے شروع کئے جانے والے ٹرافی ہنٹنگ پروگرام سے اس جنگلی جانور کی نسل میں اضافہ ہوا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ صرف مخصوص سیزن میں محدود لائسنس دئیے جاتے ہیں اور ہر کسی کو اس کے شکار کی اجازت نہیں دی جاتی۔ مارخور جانور گلگت بلتستان سمیت وادی چترال، کیلاش اور ہنزہ کے پہاڑوں پر پایا جاتا ہے۔

پاکستان میں مارخور کی نسل معدوم ہوتی جارہی تھی۔اس کو شاذونادر ہی کبھی دیکھا جاتا تھا۔ تاہم اب اس کی نسل میں اضافہ ہورہا ہے۔ تاہم ابھی بھی اس کو معدوم یا نایاب ہوتے جانور کی عالمی فہرست میں رکھا گیا ہے۔

اس جانور کو ہلاک کرنے کے لائسنس سے ملنے والی رقم سے ان علاقوں میں خوشحالی آئی ہے تاہم رقم کی وجہ سے حسد، تنازعات اور دشمنی نے بھی جنم لیا ہے۔

حکومت کی جانب سے 38 علاقوں کو مارخور مارنے کےلیے موزوں قرار دیا گیا ہے۔ ان میں چھوٹے سے گاؤں کے علاوہ گلگت بلتستان کے سوکویو،کراباتنگ اور بازنگو تین گاؤں بھی شامل ہیں۔ ان تین گاؤں میں مارخور کی سب سے زیادہ تعداد پائی جاتی ہے۔

صرف ایک مارخور مارنے سے پچھلے برس 38 ہزار ڈالر یعنی 60 لاکھ روپے کی آمدنی ہوئی تاہم یہ رقم بینک میں پھنسی ہوئی ہے۔ پچھلے سال اکتوبر سے رواں برس اپریل تک مارخور مارنے کے سیزن میں 4 لائسنس فروخت ہوئے۔ ان کی مالیت ایک لاکھ  10 ہزار ڈالر،ایک لاکھ 5 ہزار ڈالر، ایک لاکھ ڈالر اور 75ہزار ڈالر تھی۔ نوے کی دہائی میں یہ لائسنس زیادہ سے زیادہ 25 ہزار ڈالر میں فروخت ہوتا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ اب تک یہ لائسنس کسی پاکستانی نے نہیں خریدا اور ہر بار غیر ملکی شکاری ہی یہ لائسنس لیتے ہیں۔

مارخور  کے سر کی عالمی مارکیٹ میں خوب مانگ ہے۔ اس کے سینگوں کی لمبائی 5 فٹ تک بھی طویل ہوتی ہے۔ غیرملکیوں کی بڑی تعداد اس کے شکار کے لیے ان علاقوں کا رخ کرتی ہے۔ تاہم شکاری مارخور کا شکار کرکے اس کا سر ساتھ لے جاتے ہیں اور کھال اور دھڑ چھوڑ دیتے ہیں۔

علاقہ مکینوں نے بتایا ہے کہ مارخور کی نسل بچانے کے لیے دن رات محنت کی گئی۔ اس مقصد کے لیے باہر سے کسی کو اس کے شکار کے لیے ان علاقوں کا رخ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات کا احساس ہوا کہ اگر ہم اس جانور کو مارنے کی ہر کسی کو اجازت نہیں دیں گے تو اس کے اضافے سے ہمارا ہی فائدہ ہوگا اور اس کے اچھے نتائج سامنے آئے۔

اس مقصد کے لیے گارڈز بھرتی کئے گئے جن کو اس کام کی تنخواہ دی جاتی ہے تاہم اس کے لیے حکومتی سرپرستی درکار ہے۔ مارخور مارنے کا مخصوص سیزن ہوتا ہے اور اس وقت ہی اس سے آمدنی ہوتی ہے۔ اگر گارڈز کی تنخواہیں ادا نہیں کی جائیں گی تو وہ یہ کام نہیں کریں گے اور اس سے مارخور مارنے کے غیر قانونی واقعات بڑھ جائیں گے۔ مارخور مارنے کے  لائسنس سے جو آمدنی ہوتی ہے اس کا 80 فیصد حصہ اس گاؤں کے پاس جاتا ہے جہاں اس کا شکار کیا گیا جبکہ باقی رقم حکومت کو ملتی ہے۔

نوٹ: یہ آرٹیکل پہلی مرتبہ تھرڈ پول نامی ویب سائٹ پر شائع ہوا۔

WILD LIFE

Trophy Hunting

Tabool ads will show in this div