کالمز / بلاگ

ٹک ٹاک ، نوجوانوں کا کھڑاک اور نسل بے باک

 

آج کل کے ایڈوانس دور میں اگرکوئی چیز ہر ایک کو آسانی سے میسر ہے تو وہ ہے موبائل فون اور انٹرنیٹ۔آپ کسی بھی شخص سے ملیں ایسا ممکن ہی نہیں کہ اس کے پاس موبائل فون نہ ہو،اس موبائل فون اور انٹرنیٹ نے جس قدر زندگی آسان بنا دی ہے اس سے انکار ممکن نہیں اور اس میں موجود مختلف انٹرٹیمنٹ سے بھرپور سوشل میڈیا ایپس نے تو آپ کا سر اوپر اٹھانا محال کر دیا ہے۔

ایک وقت تھا جب بچے گھروں سے باہر نکل کر اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر کھیلنے کے لیے ترستے رہتے تھے اور ان کھیلوں اور سرگرمیوں سے ان کی ذہنی اور جسمانی نشوونما بھی بہترین تھی مگر آج کل کے بچے ’’توبہ توبہ‘‘،کیا کہنے۔ ہمیں تو موبائل فونز ہی کالج کا بعد ملے تھے مگر مجھے آج کل کے بچوں کی قسمت پر رشک آتا ہے،یہ نسل  منہ میں چاندی کا چمچ نہیں بلکہ ہاتھ  میں موبائل فون لے کر پیدا ہوئی ہے۔

بات کریں ایپس کی تو آج کل فیس بک،انسٹاگرام اور واٹس ایپ سے ہٹ کر ایک اور مہلک بیماری نما ایپ نے ہمارے لوگوں کو مریض بنا کر رکھ دیا ہے،آپ سمجھ تو گئے ہونگے کہ میں کس ایپ کی بات کر رہی ہوں، جی بالکل،میرا اشا رہ ٹک ٹاک کی طرف ہے۔

اس ایپ نے آتے ہی ایک وائرس کی طرح ہماری نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،اس ایپ سے جو مجھے ذاتی طور پر مسئلہ کہہ لیں یا شکایت وہ یہ ہے کہ اس ایپ کا غیر میعاری اور غیر اخلاقی استعمال بہت زیادہ ہےاور ایک دوسرے سے بہترین ایکٹنگ کی دوڑ میں اس کے صارف اپنی تمام تر حدود سے تجاوز کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

کہتے ہیں جیسا دیس ویسا بھیس، ہمارے لوگ اس بات کو بھی ذہن میں نہیں رکھ رہے اور جہاں جو دل کرتا ہے ریکارڈ کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ دنیا بھر میں اس ایپ نے ایک انقلاب برپا کرکے رکھ دیا ہے اور ہرکوئی اس کے سحر میں مبتلا ہوتا نظرآرہا ہے مگر اس کےغلط اور فحش استعمال کی وجہ سے بہت سے ممالک نے اس ایپ پر پابندی بھی عائد کرنے کی بھی کوششں کی مگر چند ہفتوں کی پابندی کے بعد اسے دوبارہ بحال کر دیا جاتا رہا ہے۔انڈونیشیا اور بنگلہ دیش ایسے ممالک کی فہرست میں شامل ہیں۔ ہمارا اپنا ہمسایہ ملک بھارت جو بہت لبرل اور ایڈوانس ہونے کے دعوے کرتا ہے، اس ملک میں بھی ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی گئی ہے مگر ہمارے حکومتی عہدےداروں کی اس طرف توجہ کون دلائے کہ اںٹرٹیمنٹ کے چکروں میں ہماری نوجوان نسل کس اندھے کنویں کی طرف جارہی ہے۔ اسکول و کالج  جانے والے بچے اپنی تعلیم سے زیادہ بہترین ٹک ٹاک بنانے پر فوکس کر رہے ہیں۔ نازیبا کلمات پرایکٹنگ، رقص اور بیشتر فضول کارنامے سرانجام دے کر داد وصول کرنے کی جستجو ہر وقت جاری رہتی ہے۔

کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ٹک ٹاک وقت گزارنے میں ان کی مدد کرتا ہے۔ یہ تو عام بات ہے کہ ٹک ٹاک ہر عمر کا فرد استعمال کرتا ہے۔ لڑکے اس ایپ کو استعمال کرتے ہوئے اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ خواتین کے ڈائلاگز پر ایکٹنگ کرتے ہوئے اس کردار کے ساتھ مکمل انصاف کرتے ہیں۔ ساڑھی باندھتے ہیں،میک اپ کرتے ہیں،تاثرات دیتے ہیں،کسی چیز میں کوئی کمی نہیں آنے دیتے اور اپنا تماشہ بنا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔

اس عمل میں معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشا جاتا،،انہیں مکمل تیار کر کے میدان میں اتارا جاتا ہے اور ان سے بھی ایکٹنگ کرانے کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔ مرد تو ایک طرف اس کے صارف میں زیادہ تعداد خواتین کی ہیں۔ خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد اس ایپ کو استعمال کرتی ہے اور بنا کسی جھجک اور ہچکچاہٹ کے ٹک ٹاک پر رقص اور ایکٹنگ کرتی نظر آتی ہیں۔ایک ویڈیو کے لیے اتنی محنت سے تیار ہوتی ہیں،میک اپ کرتی ہیں،انہیں کوئی ڈر نہیں کہ ان کی ویڈیو کہاں کہاں وائرل ہورہی ہے، کمنٹس باکس میں انہیں کن کن القابات سے نوازا جارہا ہے اور لوگ کس کس طرح ان پر لعن طعن  کرتے ہیں،انہیں پرواہ ہے تو صرف لائکس کی اور ویوز کی۔

یاد رکھیں کہ عزت سے بڑھ کر ایک عورت کے لیئے کوئی اور چیز نہیں،مجھے سمجھ نہیں آتی یہ لڑکیاں اتنی بے عزتی اور ذلت برداشت کیسے کر لیتی ہیں؟ انہیں فرق کیوں نہیں پڑتا  اور ان کو دیکھنے والے لوگوں میں زیادہ تعداد بھی ان لوگوں کی ہے جو ان کی ویڈیوز نہیں بلکہ ان کی ویڈیوز پر ملنے والے کمںٹس اور تبصرے دیکھنے کے لیئے آتے ہیں اور انہیں طرح طرح کے القابات سے نواز کرجاتے ہیں،مگر ان کی ٹک ٹاک کی گاڑی بغیر کسی بریک کے چلتی ہی رہتی ہے۔

TIK TOK

Tabool ads will show in this div