بے نامی جائیدادوں کیخلاف کارروائی شروع، لیگی سینیٹر کی 6 ہزار کینال زمین ضبط

Jul 03, 2019

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے بے نامی جائیدادوں کیخلاف کارروائی کا آغاز کردیا، چوہدری تنویر کی 6 ہزار کینال بے نامی جائیداد ضبط کرلی گئی، مسلم لیگ ن کے رہنماء نے اپنے ملازمین کے نام پر جائیداد بنارکھی تھی۔ کراچی میں بھی 8 بے نامی جائیدادوں کو نوٹسز جاری کردیئے گئے۔

حکومت کی جانب سے بے نامی جائیدادیں رکھنے والوں کیخلاف سخت ایکشن کے اعلان پر عملدرآمد شروع کردیا گیا، ایف بی آر نے مسلم لیگ ن کے رہنماء چوہدری تنویر کی موضع راجڑ پوٹھوہار ٹاؤن میں واقع 6 ہزار کینال اراضی ضبط کرلی۔

ایف بی آر کے مطابق لیگی رہنماء نے اپنے ملازمین کے نام پر جائیداد بنا رکھی تھی، ریونیو بورڈ کی جانب سے ملازمین کو بھی نوٹسز جاری کردیئے گئے، جن میں محمد بشارت، محمد معروف، عبدالشکور، شاہجہان بیگم، عبدالعزیز اور اظہر شامل ہیں۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے چوہدری تنویر کے ملازمین کے نام پر تمام بے نامی جائیداد ضبط کرلی۔

دوسری جانب کراچی میں بھی 8 بے نامی جائیدادوں کو نوٹسز جاری کئے گئے ہیں، سول لائن ميں 2 پلاٹس، کلفٹن بلاک 5 ميں ايک پلاٹ کو نوٹس جاری کیا گیا ہے، ٹھٹھہ ميں سيمنٹ بنانے والی 2 فيکٹريوں کو بھی نوٹسز جاری کئے گئے ہیں جبکہ کراچی ميں 2 نجی بينک بھی بے نامی جائيداد پر قائم ہيں۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری کہتے ہیں کہ ايکشن کا وقت شروع ہوگيا ہے، حکومت نے بے نامی اثاثے رکھنے والوں کو موقع ديا، وہ سمجھے سب کچھ ويسے ہی چلتا رہے گا، وزيراعظم عمران خان سے صبح ملاقات ہوئی، وہ نتائج چاہتے ہيں۔

واضح رہے کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے تحت اپنا کالا دھن، غیر قانونی جائیدادیں اور املاک کو انتہائی کم ٹیکس دے کر قانونی بنانے کا آج آخری دن ہے، حکومت کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا 30 جون کو آخری دن تھا تاہم چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کی درخواست پر اس میں 3 یوم کی توسیع کی گئی تھی۔

PTI

TAX

Amnesty Scheme