ایک روپے کی کرپشن بھی ثابت ہو تو جيل ميں مت ڈالنا، بيچ چوک پر لٹکا دينا،مصطفی کمال

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/07/MK-Interview-KHI-SOT-01-07.mp4"][/video]

زمین کی الاٹمنٹ کے الزام ميں نيب ريفرنس کے خلاف پاک سرزمین پارٹی کے چئیرمین مصطفيٰ کمال نے خاموشی توڑ دی۔

 سما کو انٹرويو ميں مصطفی کمال نے کہا کہ ڈی جی نیب کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر ایک روپے کی کرپشن ثابت ہوجائے تو جيل ميں مت ڈالنا بلکہ بيچ چوک پر لٹکا دينا۔ انھوں نے سوال کیا کہ اگر تحقیقات میں کچھ ثابت نہ ہوا تو کردار کشي کي قيمت کون ادا کرے گا۔

مصطفيٰ کمال کا کہنا تھا کہ عزت کي کوئي قيمت نہيں ہوتي، میں نے اربوں روپے نہیں کمائے جو خاموش رہوں۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے سرکاری اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے معاملے پر مصطفی کمال اور دیگر کیخلاف ریفرنس سماعت کیلئے22 جون کو منظور کرلیا ہے۔

کراچی میں ساحل کی قیمتی اراضی کی معمولی قیمت پر غیرقانونی الاٹمنٹ کے الزام میں نیب نے احتساب عدالت میں پاک سرزمین پارٹی چیئرمین مصطفیٰ کمال، زین ملک، حسنین مرزا، افتخار قائمخانی کیخلاف ریفرنس دائر کیا۔

ریفرنس میں بتایا گیا ہے کہ زمین 1980ء میں ہاکرز اور دکانداروں کو لیز پر دی گئی تھی، ملزمان نے ہاکرز کیلئے مختص 4 ہزار مربع گز زمین 2005ء میں الاٹ کی۔

نیب کا یہ بھی کہنا ہے کہ زمین 2014ء میں بحریہ ٹاؤن کو سستے داموں ٹرانسفر کردی گئی جبکہ سوا 2 ارب روپے کی زمین کی قیمت 26 کروڑ روپے لگائی گئی۔

نیب کا مؤقف ہے کہ سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال نے بلڈر کو کثیرالمنزلہ عمارت تعمیر کرنے کی غیرقانونی اجازت بھی دی، عدالت نے ریفرنس سماعت کیلئے منظور کرلیا۔

MUSTAFA KAMAL

PSP

Tabool ads will show in this div