قوم کو یقین دلاتا ہوں ٹیکس کاپیسہ انہی پرخرچ ہوگا، عمران خان

Jun 24, 2019

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام لوگ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اُٹھائیں، ملک کو چلانے کے لیے سب کو ٹیکس دینا چاہیے،قوم کویقین دلاتاہوں ٹیکس کاپیسہ انہی پرخرچ ہوگا۔

جیو نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک ایک دوراہے پرکھڑا ہے، ہماری آمدن کا آدھاحصہ قرضوں کے سود کی ادائیگی میں چلاجاتا ہے، ملکی ترقی کے لئے ہمیں خود کو بدلنا ہوگا، کرپشن کی وجہ سے ملک اس حالت تک پہنچاہے، کرپشن کی وجہ سےلوگ ٹیکس نہیں دیتے، قوم کویقین دلاتاہوں ٹیکس کاپیسہ انہی پرخرچ ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ یقین دلاتا ہوں کوئی ادارہ عوام کو تنگ نہیں کرے گا، عوام کی سہولت کے لئے خصوصی ہیلپ لائن قائم کی جائیگی، جب تک ٹیکس اکٹھانہیں ہوگاملک نہیں چل سکتا، ٹیکس نظام میں جدیدٹیکنالوجی متعارف کروائیں گے، ملک میں جب اصلاحات ہو رہی ہوں تو تھوڑا مشکل وقت آتا ہے، جو ملک کے لیے بہتر ہوگا میں وہ ہی کروں گا، لیڈر جواب دہ ہوتا ہے، میرا نہ کوئی بزنس ہے نہ کوئی فیکٹری، میرے تمام اثاثے ڈکلیئر ہیں، میں نے بیرون ملک کمائی کی اور پیسہ پاکستان لے کر آیا، قوم سے بھی اپیل ہے کہ اپنی زندگی آسان کریں اور اثاثے ظاہر کریں اور ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام لوگ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اُٹھائیں، ملک کو چلانے کے لیے سب کو ٹیکس دینا چاہیے، میرے تمام اثاثے ڈکلیئر ہیں،سارا پیسہ پاکستان میں ہے، اسمگلنگ کو روکنا ہوگا ورنہ ہماری انڈسٹری کھڑی نہیں ہوسکتی، ان شاءاللہ اچھاوقت ضرورآناہے، آئندہ دنوں ٹیکس چوروں کوسزائیں دینےپرمجبورہوں گے، اثاثےظاہرکریں،ٹیکس دیں اوراپنی زندگی آسان کریں، مستقبل میں ٹیکس چور ہمیشہ ذہنی دباؤ کاشکار رہے گا۔

عمران خان نے کہا کہ عوام ٹیکس ادائیگی کو قومی فریضہ سمجھیں، لوگوں کو یقین دلانا ہے کہ ان کا دیا ہوا ٹیکس انہی کی سہولیات کے لیے خرچ ہوگا ہم ٹیکس میں قسط کی سہولت دے سکتے ہیں اور جو ٹیکس چوری کرے گا ہم اسے سزا دینے پرمجبور ہوں گے، کوشش کررہےہیں ایف بی آرمیں ہرسطح پراصلاحات لائیں، محصولات میں اضافہ نہیں ہوگاتوقرضوں میں اضافہ ہوتاچلاجائیگا، چاہتے ہیں اثاثے ظاہر کرنے والی اسکیم سے لوگ فائدہ اٹھائیں، عوام30جون سےپہلے اپنے اثاثوں کی رجسٹریشن کروالیں، 30جون کے بعد اسکیم میں کوئی توسیع نہیں ہوگی۔

لوٹی رقم کوترسیلات زرکےذریعےواپس ملک لایاجاتاہے، پاکستان سےسالانہ10ارب ڈالرکی منی لانڈرنگ ہوتی ہے، پاکستان کو6ارب ڈالرکاقرض آئی ایم ایف سےلیناپڑرہاہے، اثاثےظاہرکرنےکی اسکیم عوامی عہدہ رکھنےوالوں کے لئے نہیں، مقروض ملک کوقرض سےنکلنےکےلئےمشکل وقت برداشت کرناپڑتاہے، پوری کوشش ہےکاروباری طبقے کے ساتھ مل کر پالیسی بنائیں، کاروباری طبقےکےساتھ مکمل مشاورت کررہےہیں۔

 

IMRAN KHAN

TAX