پابندی ہٹائی جائے، گٹکا فروشوں کی سندھ ہائیکورٹ میں درخواست

کراچی میں گٹکے کی فروخت پر عائد پابندی کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے گٹکا فروشوں کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو نہیں پتہ گٹکا خطرناک چیز ہے۔ اس سے منہ کا کینسر ہوتا ہے۔

گٹکا فروشوں نے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ میڈیکل رپورٹس کے مطابق گٹکا کھانے سے کینسر نہیں ہوتا۔ اس لیے پولیس کو کارروائیوں سے روکا جائے۔

جس پر حسن اظہر رضوی نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اس خطرناک چیزکی فروخت کی اجازت کیسے دےسکتے ہیں جس سے منہ کا کیسنر لاحق ہوتا ہے۔

دوسری جانب نسیم حیدر نامی ایک شہری نے گٹکے پر پابندی برقرار رکھنے کے لیے درخواست دائر کردی ہے۔ نسیم حیدر کے وکیل مزمل ممتاز ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ نسیم حیدر کو گٹکا کھانے سے منہ کا کینسر ہوا۔ اب وہ زندگی اور موت کی کشمش میں مبتلا ہے۔

مزمل ممتاز ایڈووکیٹ نے عدالت سے اسدعا کی کہ گٹکا فروخت کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

عدالت نے گٹکا فروشوں اورشہری کی درخواستوں کو یکجا کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔

Tabool ads will show in this div