کیا حکومت نے پاکستان کا عسکری بجٹ واقعی برقرار رکھا ہے؟

منگل کو بجٹ تقریر میں وزیر مملکت برائے ریوینو حماد اظہر نے بتایا ہے کہ دفاعی بجٹ کو پچھلے برس کی سطح 1150 ارب روپے پر برقرار رکھا گیا ہے۔ بدھ کو مشیر خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے بھی یہ بات اپنی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں دہرائی۔

ہر سال بجٹ کے موقع پر دفاعی اخراجات کا معاملہ موضوع بحث ہوتا ہے۔ یہ معاملہ اس بار زیادہ حساس اس لیے ہوگیا کیوں کہ حکومت کے پاس کم رقم ہے اور جہاں سے بھی ممکن ہو اخراجات میں کمی کی جائے گی۔

جب بھی خسارے میں کمی کی بات کی جاتی، عسکری بجٹ کو کم نہیں کیا جاتا تھا اور ترقیاتی بجٹ میں سے کمی کردی جاتی تھی۔ اس لئے یہ غیر معمولی بات ہے کہ حکومت کی جانب سے عسکری بجٹ میں کمی کے دعویٰ کی جانچ پڑتال کی جائے۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ عسکری بجٹ بڑھایا گیا تھا اور اس کو منجمد نہیں کیا گیا۔

وزیرمملکت اور مشیر خزانہ نے اپنے تقاریر میں عسکری اور دفاعی امور کے لیے 1153 ارب روپے بجٹ میں مختص کرنے کا بتایا، اس کو مزید انتظامی اور سروسز کے شعبے میں تقسیم کردیا گیا۔ اس میں وہ رقم شامل نہیں جو پنشن کی مد میں ادا کی جائے گی۔ اس لئے اگر ہم پچھلے دو برس میں دی جانے والی  پنشن کی رقم کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ اس میں 26 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2019 ،2020 کے لیے عسکری اداروں کی پنشن کے لیے 327 ارب روپے پنشن کی مد میں رکھے گئے جبکہ پچھلے مالی سال میں پنشن کی مد میں 259 ارب روپے رکھے گئے تھے۔

جب پنشن کی یہ رقم عسکری بجٹ میں شامل کی جاتی ہے تو مجموعی رقم 1480 ارب روپے بن جاتی ہے جو پچھلے سال کے عسکری اخراجات کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہے۔

Military Budget

Budget 2019 2020

Tabool ads will show in this div