اقتصادی سروے 2018-19 کا تفصیلی جائزہ

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ملک ان دنوں معاشی مشکلات کا شکار ہے اگر ہم نے معیشت کو بہتر نہیں کیا تو ہم ڈیفالٹ ہوجائیں گے۔

اسلام آباد میں اقتصادی سروے 2018-19 کا اجراء کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے سے ملکی وسائل پر توجہ نہیں دی گئی، مشکل صورت حال سے نکلنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

آئندہ مالی سال سے قبل اکنامک سروے ہر سال پیش کیا جاتا ہے جس میں حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں میں ناکامیاں اور کامیابیاں سمیت ملک کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

گزشتہ مالی سال میں معیشت 5.8 فیصد بڑھ گئی تھی تاہم رواں برس جی ڈی پی کی شرح 3.3 کم ہونے کی توقع ہے، یہ پانچ سالوں میں پہلی بار ہماری معیشت 4 فیصد سے کم ہوگی، جس کے باعث گزشتہ 12 ماہ میں بہت سے افراد نے اپنی نوکری گنوا دی۔

ایک سال قبل،ایک دہائی میں سب سے تیزی سے ہماری جی ڈی پی بڑھ رہی تھی ، لوگ بہت زیادہ خرچ کررہے تھے برآمدی اشیاء کی کھپت میں اضافہ ہوگیا تھا جس کے باعث ڈالر ملک سے باہر گیا۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ بیرون قرضوں کی مدت میں 97 ارب ڈالر لئے گئے تھے جبکہ ان تمام سالوں میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہ ہونے کے باعث ملک کی دولت پیدا کرنے کی صلاحیت میں صفر فیصد اضافہ ہوا۔

یہ ملکی معیشت کیلئے خطرناک صورتحال ہے اور روپے کو بے پناہ دبائو کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ سالوں میں ان قرضوں پر سود کی مد میں تین ہزار ارب روپے کی ادائیگی کرنا ہوگی ، قومی قرضے جی ڈی پی کے 60 فیصد سے زیادہ نہیں جانا چاہیے لیکن ہم نے سال 2018 میں اس حد کو پار کرلیا تھا۔

روپے کی قدر گرنے،اشیاء کی مانگ بڑھنے سے مہنگائی بڑھی، موجودہ سال مہنگائی میں اضافے کی اوسط شرح 7 فیصد رہی، مارچ میں مہنگائی 9.4 فیصد، اپریل میں 8.8 فیصد رہی جبکہ جولائی 2018 میں مہنگائی میں اضافے کی شرح 5.8 فیصد تھی۔

مہگائی بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مقامی کرنسی میں قرض ادا کرنے کے لئے کرنسی نوٹ چھاپ آمدن سے زائد صرف کئے گئے جس سے افراط زر میں اضافہ ہوا۔

انھوں نے کہا کہ ملکی آبادی کا بڑا حصہ ٹیکس دینا ہی نہیں چاہتا جو کہ ایک بڑا مسئلہ ہے، موجودہ حکومت کے معاشی اقدامات کے نتائج جلد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے، مہنگائی کی صورت میں حکومت وقت کو ہی سب سے بڑی مشکل درپیش ہوتی ہے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ معیشت کو صحیح راستے پر ڈالنے اور اسے مستحکم بنانے کیلئے اہم فیصلے کئے جارہے ہیں۔

معاشی خطرات سے نمٹنے کے لیے حکومت نے بیرون ملک سے 9.2 ارب ڈالر کی معاونت لی، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بھی 6 ارب ڈالر سے زائد کا پیکیج لیا جا رہا ہے، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور اسلامی ترقیاتی بینک کو تیل کی موخر ادائیگی کی سہولت حاصل کرلی گئی ہے، تاہم غیر ملکی معاونت سے ملک کو خوش حال نہیں بنایا جا سکتا، اپنے اداروں کو مستحکم کرنا ہوگا۔

حکومت کی ترجیحات کے بارے میں بتاتے ہوئے حفیظ شیخ نے کہاکہ فوری خطرات کا خاتمہ فوائد کے حصول کیلئے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنا ' ملکی صنعت کو ترقی دینا ' غریب افراد کو خصوصی توجہ دینے اور امیروں کو ٹیکسوں کی ادائیگی پرراغب کرنا ہماری ترجیحات ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ملک کے زائد آمدن والے طبقے کو معاشی استحکام کے لیے حکومت کا ہاتھ بٹانا ہوگا، کفایت شعاری کی مہم پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔

صحت، تعلیم اور لوگوں کی دیگر سہولت پر جور قم خرچ کی جاتی تھی اسے بے کار منصوبوں میں خرچ کیا گیا اس کی مالیت تیرہ سو ارب روپے ہے۔

 

Economic Survey

2018-19

Finance Adviser

Dr Hafeez Shaikh

Tabool ads will show in this div