کالمز / بلاگ

اپنوں اور آزادی کیساتھ عید منانے کی اہمیت کا پتہ جیل جا کر چلا

Jun 07, 2019

عید الفطر کے پہلے دن میں دفتر جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ مجھے صبح صبح آفس کیلئے نکلنا تھا تاکہ عید کی نماز کی کوریج کرسکیں تو چھوٹے بھائی نے کہا کہ بھائی عید والے دن تو گھر رک جائیں۔ میں نے اسے جواب دیا کہ عید ہماری کہاں ہوتی ہے، عید تو بچوں کی ہوتی ہے۔ بس جلد آجاوں گا، پھر گپ شپ کریں گے۔ ادھر پیارے دوست شوکت فیروز ڈی آئی جی جیل خانہ جات پنجاب نے دعوت دے رکھی تھی۔ جیل میں قیدیوں کی تفریح کیلئے عید کی مناسبت سے رنگا رنگ ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے، آپ شرکت بھی کریں اور اس کی کوریج بھی کریں، تو ڈسڑکٹ جیل ملتان چلا گیا۔ جیل کے اندر بازو پر اسٹمپ لگوا کر داخل ہوگے تو جیل کے گراؤنڈ میں ایک رنگا رنگ تقریب ہمارا انتظار کر رہی تھی۔ شوکت فیروز نے ویلکم کیا اور تقریب شروع ہوگئی۔

گلوکاروں اور فنکاروں کی کثیر تعداد جیل میں قید قیدیوں کی تفریح کیلئے موجود تھی تاکہ ان میں عید کی خوشیاں بانٹی جا سکیں جیسے ہی گلوکاروں نے گانے شروع کیے تو پنڈال میں بیٹھے قیدی اپنے آپ کو روک نہ سکے۔ انہوں نے جھومنا شروع کردیا یہاں تک کہ انتظامیہ کی جانب سے ان کو نہ روکا گیا تاکہ وہ محفل سے خوب لطف اندوز ہوسکیں اور روکتے بھی کیوں کیونکہ تقریب بھی  تو انہی کیلئے منعقد کی گئی تھی جیسے جیسے فنکار اپنی پرفارمنس پیش کرتے رہے تو سامنے پنڈال میں بیٹھے قیدی جھوم کر خوب داد دیتے بلکہ کئی بار تو کلوگاروں کے خوبصورت گانوں پر جیل پولیس کے اہلکار اور قیدی بلاتفریق خوب اکٹھے رقص کرتے رہے۔ تقریب میں موجود مہمانوں نے ان مناظر کو اپنے موبائل فونز میں عکسبند بھی کیا۔ تقریب کے اختتام پر قیدیوں سے بات چیت کرنے کا موقع ملا تو پتہ چلا یہ لوگ اتنے برے نہیں گو کہ ان کیلئے رنگا رنگ تقریب کا اہتمام بھی کیا گیا لیکن وہ عید کے موقع پر اپنے پیاروں کو نہیں بھولے تھے، کہیں نہ کہیں اپنوں کی کمی ان کے الفاظ سے جھلک رہی تھی۔ ان قیدیوں میں سے راولپنڈی کا محمد نثار منشیات کے مقدمہ میں عرصہ دو سال سے ڈسڑکٹ جیل میں قید ہے۔ اس سے بات ہوئی تو اس جیل انتظامیہ کا تقریب کیلئے شکریہ ادا کیا، جب میں نے ان سے بات کی کہ آپ اپنے کیے پر شرمندہ ہیں اور جو جیل سے باہر آزاد فضاوں میں گھوم رہے ہیں ان کیلئے کیا پیغام دیں گے، تو نثار نے بڑی پیاری بات کی جس نے میرے دماغ کے تمام بند دروازے کھول دیے اس نے کہا دو کی جگہ ایک روٹی کھالیں، برائی کا نتیجہ برائی ہوتی ہے اور اپنے گھر والوں، ماں باپ بچوں کو حرام اور برائی کے چکر میں آزمائش میں نہ ڈالیں تاکہ آپ بھی عید اپنے بچوں کے ساتھ گزار سکیں۔

نثار کے بعد ملتان کے نوجوان محمد آصف سے بات ہوئی تو وہ اپنے کیے پر بہت شرمندہ نظر آیا اور ہمارے زریعے اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو پیغام بھی بھجوایا کہ ابا مجھے معاف کر دیں، اب غلطی نہیں ہوگی۔ دو سال سے جیل میں قید ہوں، میں عید اور خوشیوں کے سب ہی تہوار آپ لوگوں کے ساتھ منانا چاہتا ہوں، بس مجھے ایک موقع دے دیں۔

نثار اور آصف کے بعد قیدیوں کی ایک بہت بڑی تعداد میرے اردگرد جمع ہوگی وہ بھی شاید آزاد پاکستانیوں کیلئے پیغام دینا چاہتے اور اپنا درد مجھے سنانا چاہتے تھے چونکہ تقریب بھی تقریبا ختم ہوچکی تھی اور ہم نے اب جیل سے واپس آفس آنا تھا تو ان کے دل کا درد ان کی آنکھوں سے عیاں تھا لیکن ہم وہاں سے روانہ ہوگے۔ جب میں ان قیدیوں کی درد بھری داستانیں سن رہا تھا مجھے آزادی، شرافت اور قریبی رشتوں کی قیمت کا بڑا بخوبی اندازہ ہو چلا تھا۔ ساتھ ہی مجھے میرے بھائی کی بات کانوں میں گونج رہی تھی کہ آج عید والے دن تو رک جائیں تاکہ سب اکٹھے عید کا دن منائیں یہ سب مواقع ہم آزاد لوگوں کے پاس موجود ہیں لیکن جیل میں سالہا سال قید ان لوگوں کے پاس موجود نہیں۔ ہمیں شرافت، ایمانداری اور ہرس سے پاک زندگی اور اپنوں کے ساتھ ہرلمحہ گزارنے پر رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ آزادی کی قیمت ان سے پوچھیں جو قید میں ہوتے ہیں اور اس نعمت سے محروم ہوتے ہیں۔ ڈی آئی جی جیل خانہ جات شوکت فیروز اور محکمہ جیل پنجاب کی اچھی کاوش تھی، چلو کچھ گھنٹوں کی تقریب صیح ان قیدیوں کو تفریح کا موقع تو ملا۔۔۔۔۔۔

 

multan jail

prisoners Eid

Tabool ads will show in this div