ڈرپ ایری گیشن نظام نے مٹی کے ٹیلوں پر پھل دار درخت اُگادئیے

Photo: Hasan Abdullah
Photo: Hasan Abdullah
Photo: Hasan Abdullah
Photo: Hasan Abdullah
 

حسن عبداللہ نے پنجاب کے ریگستانوں کو ڈرپ اری گیشن کے ذریعے سیراب کرکے درخت اُگادیئے ہیں۔

حسن عبداللہ کو صادق آباد میں چولستان کے صحرا کے نزدیک 400 ایکڑ پر پھیلی آبائی زمین 2005 میں ورثے میں ملی۔اس زمین کا 50 ایکڑ حصہ مٹی کے ٹیلوں پر مشتمل تھا اور اس پر کچھ کاشت نہیں تھا ۔

سال 2015 میں کافی تحقیق کے بعد انھوں نے بنجر زمین کو ڈرپ اری گیشن کے ذریعے سیراب کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت کی جانب سے ڈرپ اری گیشن پر 60 فیصد سبسڈی دینے کا فیصلہ بھی ان کے لئے بہت معاون ثابت ہوا۔

صرف 4 برس میں زمین کا یہ حصہ پھل دار درختوں سے لدا ہوا ہے۔ انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ ڈرپ اری گیشن کے بغیر مٹی کے اس ٹیلے پر کچھ بھی کاشت کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

اس طریقہ کار کے ذریعے پانی میں فرٹیلائزر ملا کر پائپوں کے ذریعے براہ راست درختوں کی جڑوں میں پہنچایا جاتا ہے۔ پانی کی مخصوص مقدار ہر منٹ میں ڈرپر کے ذریعے خود کار طریقہ کار سے نکلتی رہتی ہے۔ کیوں کہ پانی کی مقدار کم ہوتی ہے،اس لیے آبی بخارات بننے یا پانی ضائع ہونے جیسے مسائل بھی درپیش نہیں ہوتے۔

اس طریقہ کار کے ذریعے کسانوں کا 95 فیصد پانی بچ سکتا ہے اور فرٹیلائیزر کا استعمال بھی کم ہوتا ہے۔پانی بچانے کا یہ نیا طریقہ کار پاکستانی کسانوں کے مستقبل کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوگا۔ زرعی شعبے میں پانی کا استعمال زیادہ ہے اور پیداوار کم ہے۔ پنجاب کے کسان ایسی فصلوں پر انحصار کرتے ہیں جن کو زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل فارم واٹرمنجمنٹ محمد اکرم نے بتایا کہ فصلوں کو کاشت کرنے کے قدیم طریقہ کار،فلڈ اری گیشن کے تحت ایک کسان فی ایکٹر اراضی کے لیے 4 لاکھ 12 ہزار لیٹر پانی استعمال کرتا ہے تاہم ڈرپ اری گیشن کے زریعے اتنے ایکٹر رقبے کےلیے 2 لاکھ 32 ہزار لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے۔

عبداللہ کا مزید کہنا ہے کہ کنال کے آخری سرے پر ہونے کے باعث ہمیں ہر وقت پانی کی دستیابی یقینی بنانے کی ضرورت ہوتی ہے، اس کیلئے ہم نے ایک جگہ پانی ذخیرہ کرنے کیلئے بنائی ہے، کنال کے ابتدائی حصے کے کاشتکاروں کی جانب سے سالوں سے پانی چوری کے باعث آخری حصے کے کاشتکار مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔

ڈرپ ایریگیشن بہت مہنگی ہے، عبداللہ نے 18 ایکڑ پر کینو، 6 ایکڑ پر اورنج کی ایک قسم فروٹر اور 5 ایکڑ پر لیموں کاشت کر رکھے ہیں جبکہ تجرباتی طور پر ایک ایکڑ پر زیتون کی بھی کاشت کر رکھی ہے جو اب پھل دینے والا ہے۔

عبداللہ کا کہنا ہے کہ کینو اور زیتون کے پھل دینے سے قبل تین سال اس کی اچھی طرح دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے، ہمیں امید ہے کہ رواں اور آئندہ سال ہم منافع کمانے لگیں گے، اپنا سرمایہ مکمل کرنے میں ابھی مزید 4 سال لگ سکتے ہیں۔

Photo: Hasan Abdullah

عبداللہ نے جب پانی ذخیرہ کرنا شروع کیا تو انہیں اپنا واٹر پمپ چلانے کیلئے مہنگا ڈیزل استعمال کرنا پڑا جس سے وہ ڈرپ ایریگیشن کے ذریعے زراعت جاری نہیں رکھ سکتے تھے تاہم حکومت کی جانب سے 2018ء میں شمسی توانائی پر 80 فیصد سبسڈی نے ان کی مشکل آسان کردی۔

وہ کہتے ہیں کہ شمسی توانائی ہماری زندگیاں بچانے کا ذریعہ ہے، اس سے ہماری لاگت میں ہی کمی نہیں آئی بلکہ سولر سسٹم کی قیمت بھی ایک سال میں وصول ہوگئی، صرف مزدور، کھاد اور کیمیکلز کا خرچ رہ گیا، اگر ہم روایتی زراعت کریں تو اخراجات بہت زیادہ آتے ہیں، ہمیں ٹریکٹر، 6 سے 8 مزدور اور زیادہ پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔

عبداللہ نے تخمینہ لگاتے ہوئے بتایا کہ ڈرپ ایریگیشن میں روزانہ 7 گھنٹے تک پانی فراہم کیا جاتا ہے، اگر یہ ڈیزل پر چلے تو 35 لیٹر روزانہ درکار ہوگا جس کی پاکستانی روپے میں لاگت 4 ہزار 270 روپے (تقریباً 30 ڈالر) ہوگی۔

عبداللہ نے جب ڈرپ ایریگیشن کا آغاز کیا تو ان کے تجربات کا مشاہدہ کرنے کیلئے لوگوں کا رش لگ گیا، 2015ء میں بہاولپور سے تعلق رکھنے والا نوجوان اس سے بہت متاثر ہوا اور اس نے  سابق فوجی افسر کی 700 ایکڑ زمین پر ڈرپ ایگیشن کا آغاز کردیا۔

انفینیٹی ایگرو اینڈ لائیو اسٹاک فارم کے منیجر آصف ریاض تاج کہتے ہیں کہ ہمارا واحد فارم ہے جو پورے پاکستان میں وسیع ترین ڈرپ ایریگیشن سسٹم کا حامل ہے جس کا دائرہ صحرا تک پھیلا ہوا ہے، جسے قائم کئے ہوئے چار سال گزر چکے ہیں، 70 ایکڑ پر پھیلے باغات اب پھل دینا شروع ہوگئے ہیں، لیکن مکمل پھل لگنا چھٹے سال سے قبل ممکن نہیں ہوگا۔

[caption id="attachment_1568922" align="alignnone" width="640"] Photo: Hasan Abdullah[/caption]

انہوں نے بتایا کہ ڈرپ ایریگیشن اور شمسی توانائی کا نظام کی تنصیب پر تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ روپے (تقریباً ایک لاکھ 74 ہزار ڈالر) لاگت آئی ہے جبکہ اسے چلانے کیلئے ماہانہ 40 لاکھ روپے (تقریباً 28 ہزار ڈالر) کا خرچ آتا ہے۔

عبداللہ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ڈرپ ایریگیشن سسٹم کیلئے ابتداء میں بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور تنبیہ کی کہ اگر مضبوط مالی مدد نہ ہو تو یہ کافی مشکل ہوگا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ابتداء میں ہم نے 35 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی لیکن ہمارے جاری اخراجات کے باعث یہ لاگت ایک کروڑ روپے (تقریباً 70 ہزار 621 ڈالر) تک پہنچ چکی ہے۔ وہ خوش قسمت ہیں کہ ان کی 400 ایکڑ پر گنے، کپاس اور گندم کی فصلوں سے آمدن کا سلسلہ جاری ہے۔

آن فارم واٹر مینجمنٹ کے رکن اکرم کا کہنا ہے کہ عبداللہ کے تجربے کی کامیابی، پانی کی بچت اور حکومتی سبسڈی کے باجود چند ہی کاشتکار ڈرپ ایری گیشن کی طرف گئے ہیں، ہمارے ڈپارٹمنٹ نے 2012ء سے اب تک 50 ہزار سسٹم تقریباً 5 ہزار (تقریباً 10 ایکڑ رقبے کے) مقامات پر لگائے ہیں، تاہم وہ کہتے ہیں کہ اس کی تعداد کہیں زیادہ ہونی چاہئے تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری کوششوں کے باوجود کاشتکاروں کی سوچ بہت سست روی سے تبدیل ہورہی ہے، ہم پانی کی بچت کی اس ٹیکنالوجی کو بہتر انداز سے نہیں بڑھا پارہے۔

کاشتکاروں کا شکوہ ہے کہ محکمہ زراعت اور مذکورہ کمپنی بعد از فروخت سہولیات فراہم نہیں کرتے، غیر تربیت یافتہ اور کم پڑھے لکھے کاشتکار اس کا حل از خود تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔ عبداللہ کے مطابق یہ اس سسٹم کی ناکامی کا سب سے بڑا سبب ہے۔

یہ آرٹیکل سب سے پہلے دی تھرڈ پول میں شائع ہوا ہے

PUNJAB

Drip Irrigation

Sand Dunes

Tabool ads will show in this div