تازہ ترین

دنیا کو اسلاموفوبیا سے باہرنکلنا ہوگا، دہشتگردی کاتعلق اسلام سے نہیں، وزیراعظم

تصویر : ٹوئٹر ہینڈل

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ دہشتگردي سے اسلام کا کوئي تعلق نہيں، دنيا کو اسلامو فوبيا سے باہر نکلنا ہوگا، مغربي دنيا مسلمانوں کے جذبات کا احساس کرے۔ انہوں نے کہا کشمیریوں اور فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کو دہشتگردی سے نہیں جوڑا جاسکتا، او آئی سی وہاں کے مظلوم عوام کا ساتھ دے۔

مکہ مکرمہ ميں اسلامي تعاون تنظيم (او آئی سی ) کے 14ویں سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اظہاررائے کي آزادي کےنام پرمسلمانوں کےجذبات مجروح نہيں کيےجاسکتے، دہشتگردي سے اسلام کا کوئي تعلق نہيں ہے، دنيا کو اسلامو فوبيا سے باہر نکلنا ہوگا۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزيراعظم کا کہنا تھا کہ کشميري عوام آزادي کے ليے سياسي جدوجہد کررہے ہيں، انہیں ان کا حق خوداراديت ملنا چاہيے۔ مغربي دنيا مسلمانوں کے جذبات کا احساس کرے۔ وزیراعظم نے فلسطینیوں کے حق میں بھی آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے دہشت گردی کو معصوم فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیا۔بيت المقدس فلسطينيوں کا دارالحکومت ہونا چاہيے، جولان کي پہاڑياں فلسطين کا حصہ رہنا چاہيں ۔

انہوں نے کہا کہ کوئی مذہب معصوم انسانوں کےقتل کی اجازت نہیں ديتا، سانحہ نیوزی لینڈنےثابت کردیا کہ دہشتگردی کاکوئی مذہب نہیں۔مسلم دنیا کے خلاف ظلم و بربریت کا سلسلہ بند ہونا چاہیئے، ان کی سیاسی جدوجہد پر دہشتگردی کا لیبل درست نہیں۔

عمران خان نے واضح کیا کہ کرائسٹ چرچ کے واقعے نے ثابت کردیا کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ کوئی مسلمان ایسے واقعے میں ملوث ہو تو اسلامی دہشت گردی کا نام دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا نائن الیون سے پہلے بیشترخودکش حملے تامل ٹائیگرز کرتے تھے لیکن کسی نے ان حملوں کا تعلق ہندو مذہب سے تعلق نہیں جوڑا۔

انہوں نے کہا کہ اسلامي دنيا کو معیار تعلیم ، سائنس اور ٹيکنالوجي پربھی خصوصي توجہ دينا ہوگی۔ اس پليٹ فارم سے سائنس وٹيکنالوجي کو فروغ دينا ہوگا۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ مغربي دنيا کوبتانا پڑے گا کہ مسلمان اپنے پيغمبرسےکتني محبت وعقيدت رکھتے ہيں،اظہار رائے کي آزادي کے نام پران کے جذبات مجروح نہيں کيے جا سکتے۔

اس سے قبل اجلاس میں شرکت کے لیے کانفرنس ہال پہنچنے پر سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے وزیراعظم کا پرتپاک استقبال کیا، دونوں رہنماؤں نے اس دوران مختصر بات چیت بھی کی۔

اجلاس کی صدارت شاہ سلمان بن عبدالعزیزکر رہے ہیں اور اس کا مقصد اسلامی دنیا کو درپیش مسائل کیلئے مشترکہ مؤقف اختیار کرنا ہے۔ او آئی سی اجلاس میں 57ممالک کے سربراہان شریک ہیں۔

IMRAN KHAN

OIC Meeting

Tabool ads will show in this div