شاہد آفریدی کی کتاب پر پابندی کیلئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی

سندھ ہائی کورٹ نے شاہد آفریدی کی کتاب ’’گیم چینجر‘‘ پر پابندی کےلیے درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

شاہد آفریدی کی کتاب کےخلاف درخواست عبدالجلیل مروت ایڈوکیٹ کی جانب سے 6 مئی کو دائر کی گئی تھی جس کے قابل سماعت ہونے پر دلائل کےلیے سماعت آج 24 مئی کو ہوئی۔

درخواست گزار کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ کتاب میں خودکش بمبار جیسی قابل اعتراض اصطلاح استعمال کی گئی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ آپ آئین کا آرٹیکل 199 پڑھ کر تیاری کرکے آئیں۔

عدالت نے درخواست گزار کی عدم حاضری پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کی۔

شاہد آفریدی نے اپنی کتاب گیم چینجر میں کئی انکشافات کردئیے

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ شاہد آفریدی نے اپنی کتاب میں لیجنڈ بیٹسمین جاوید میانداد کیلئے ’’چھوٹا آدمی‘‘ کا لفظ استعمال کیا، جبکہ وقار یونس جیسے عظیم باؤلر کو ’’اوسط معیار کے کپتان اور بدترین کوچ‘‘ قرار دیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ گوتم گھمبیر کیلئے ’’سڑیل‘‘ جیسے نامناسب، غلط اور بدنامی والے الفاظ کا استعمال کرکے کرکٹ کے اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، شاہد آفریدی نے اپنی کتاب میں گیم اور فین کو تکلیف پہنچائی۔

درخواست گزار کے مطابق شاہد آفریدی نے اپنی کتاب میں اپنی عمر 1975 ظاہر کی ہے، جبکہ آئی سی سی، پی سی بی اور دیگر اداروں نے 1996 میں شاہد آفریدی کو 16 سال کا تیز ترین سینچری بنانے والا ریکارڈ ہولڈر ظاہر کیا تھا۔ عدالت میں آکر ثبوت دے کیونکہ 1975 کے حساب سے تو آفریدی کی عمر 20 یا 21 سال بنتی ہے نہ کہ 16 سال۔

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ شاہد آفریدی اور وجاہت سعید خان کو کتاب کی اشاعت سے روکا جائے، جبکہ کتاب میں جاوید میانداد، وقار یونس اور گوتم گمبھیر کے خلاف تضحیک آمیز الفاظ نکالے جائیں۔

Game Changer

Shahid Afridi book

Tabool ads will show in this div