آپ پھلوں کے خاص بادشاہ آم کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/05/Mango-FTG-Vo-22-05.mp4"][/video]

بادشاہ سلامت آگئے ہیں۔ انسانوں کے نہیں پھلوں کے، جی ہاں پھلوں کے بادشاہ آم نے پاکستانی مارکیٹوں میں انٹری دے دی ہے، تاہم خریدتے ہوئے کیمیکل سے پکنے والے آموں سے خبردار رہیں۔

موسم گرما کی سوغات رسیلے آم ٹھیلوں پر سج گئے ہیں۔ بے شمار اقسام کے مالک تک اس پھل امیر ہو یا غریب ہر طبقے کے شخص کی رسائی ممکن ہے۔ آم کی الفانسو، انور رٹول، دسہری، سندھڑی، سہارنی، سیندوریا، لنگڑا، چونسہ، گولا اور دیگر اقسام شامل ہیں۔

آم کی تین اقسام ایسی ہیں جو کہ ذائقے اور خوشبو کے لحاط سے اپنی مثال آپ ہیں، جس کو دیکھ کر ہر ایک کا دل للچاتا ہے۔

آم رس دار اور گودے دار پھل ہے، جو مختلف رنگ و بیضوی شکل میں نظر آتا ہے۔ اسے پکنے پر کھایا جاتا ہے اور کچے میں اس کا اچار بنایا جاتا ہے۔ اس کی سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں اقسام ہیں اور برصغیر میں اسے سب پھلوں کا شہنشاہ کہا جاتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ ایک نہیں بلکہ تین ممالک کا قومی پھل ہے۔ آم پاکستان، ہندوستان اور فلپائن کا قومی پھل ہے۔ اس کے علاوہ یہ بنگلہ دیش کا قومی درخت بھی ہے۔ آم کا نام 'مینگو' انڈیا سے آیا ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں چار کروڑ 60 لاکھ ٹن سے زائد آم پیدا ہوتا ہے، جب کہ اس پھل کی دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پھل دنیا کے ہر حصے میں پیدا ہوتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ آم بھارت میں پیدا ہوتا ہے۔ بازاروں میں آم سب سے پہلے پیرو ، اس کے بعد افریقہ سے اور تیسرے نمبر پر اسرائیل اور مصر سے اور پھر برازیل سے آنا شروع ہوتے ہیں۔

جنوبی ایشائی ممالک میں تقریبا پونے دو کروڑ ٹن آم پیدا ہوتے ہیں جو دنیا کی سالانہ پیداوار کا 40 فیصد ہیں لیکن دنیا بھر میں برآمد کیے جانے کے معاملے میں یہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آم کو اپنے ہی ملک میں استعمال کر لیا جاتا ہے۔

اس کے بعد چین اور تھائی لینڈ دوسرے اور تیسرے نمبر پر آتے ہیں جہاں سب سے زیادہ آم پیدا ہوتے ہیں۔ ایک روایت ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے آم بھارت میں پیدا ہوا، جہاں دنیا کا قدیم ترین آم کا درخت بھی ہے جو 300 سال پرانا ہے اور وسطی ہند کے خاندیش میں پایا جاتا ہے۔

تحقیق سے ایک اور دلچسپ بات سامنے آئی ہے کہ آم کاجو اور پستے کا رشتہ دار ہے۔

صحت کیلئے پریشان رہنے والے افراد کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایک پیالی آم میں تقریباً 60 ملی گرام وٹامن سی پایا جاتا ہے۔ آم میں 20 سے زیادہ وٹامنز اور معدنیات پائے جاتے ہیں۔ اس میں وٹامن اے، پوٹاشیم، فولیٹ (وٹامن بی کی ایک قسم) بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں ریشہ بھی پایا جاتا ہے۔

گنیز ورلڈ ریکارڈ کے مطابق سب سے وزنی آم تقریبا ساڑھے تین کلو ( 3.435) کا ہوا ہے جو لمبائی میں 30.48 سینٹی میٹر تھا اور اس کا گھیر یا دائرہ 49.53 سینٹی میٹر اور عرض 17.78 تھا۔ یہ پھل سرجیو اور ماریا سوکورو بوڈیونگان کے گھر کے سامنے والے باغ میں سنہ 2009 میں پیدا ہوا تھا۔

summer

juice

Mango Shake

Health and Benefits

Tabool ads will show in this div