سینیٹ اجلاس، پیپلزپارٹی اراکین کا گورنر سندھ عمران اسماعیل سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

سینیٹ کے اجلاس میں پیپلز پارٹی اراکین نے گورنر سندھ عمران اسماعیل پر کڑی تنقید کی اور ان سےاستعفی کا مطالبہ کردیا۔

سینٹ کا اجلاس چئیرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت  شروع ہوا تو مہنگائی کے حوالے سے وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت برائے خزانہ نے بتایا کہ جولائی 2018 سے مارچ 2019 تک افراط زر چھ اعشاریہ آٹھ فیصد رہی،مہنگائی پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور بین الاقوامی تیل کی قمیتوں میں اضافہ کے باعث ہوئی۔

ایوان میں چئیرمین سینٹ نے آگاہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان کی سکیورٹی واپس نہ لینے کے لئے وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا ہے اُن سے سکیورٹی واپس نہیں لی جا رہی۔

سینیٹر رضا ربانی نے گورنر سندھ عمران اسماعیل کے رویے پرتنقید کرتے ہوئے کہاکہ گورنر سندھ کو تقسیم کرنے کی بات کررہے ہیں، یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کوئی بھی سندھ کی تقسیم برداشت نہیں کرے گا۔

شیری رحمان نےکہا کہ گورنر سندھ مستعفی ہوں، وزیراعظم اور وزرا ایوان میں آکر جواب دیں۔

ایوان میں بحث کے دوران سینیٹر مولا بخش چانڈیو اور سجاد طوری کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ پی ٹی آئی کو وفاقی جماعت کہلاتے ہوئے شرم نہیں آتی، سندھ کوئی مذاق نہیں جو سندھ کو تقسیم کرنے کی بات کرتے ہیں، پاکستان کی عوام کا مسئلہ روحانیت سُپر سائنس نہیں، بھوک افلاس اور پیاس ہے، یہ کٹے بیچ کر وفاق چلائینگے۔

PTI

governor sindh

Senate Session

Tabool ads will show in this div