وزیراعظم کی صدارتی نظام کی خبروں کی تردید، کابینہ میں تبدیلی کی بھی وضاحت

وزیراعظم عمران خان نے صدارتی نظام کی خبروں کی تردید کردی، کہتے ہیں کہ ماہرین کی ضرورت پڑتی ہے، اس لئے غیر منتخب لوگوں کو کابینہ میں شامل کیا۔

وزيراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن این آر او کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے، کسی کو این آر او نہیں ملے گا، آج احتساب سے پیچھے ہٹ جاؤں تو اپوزیشن کیلئے سب ٹھیک ہو جائے گا، کرپٹ عناصر کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا، اپوزیشن این آر او نہیں مانگ رہی تو مجھے بُرا بھلا کیوں کہہ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام مقدمات گزشتہ حکومتوں نے قائم کئے ہیں، جعلی اکاؤنٹس کیس چوہدری نثار کے دور میں بنائے گئے، اچھے لوگوں کو اداروں میں لگا رہے ہیں، جہاں ماہر لوگ نہیں وہاں ٹیکنیکل لوگ لگا رہے ہیں، کئی ادارے ہمارے ہاتھ میں نہیں، ان کے کام نہ کرنے کا ملبہ ہم پر گرتا ہے۔

عمران خان نے واضح کیا کہ کبھی صدارتی نظام کی بات نہیں کی، اس پر بحث پتہ نہیں کہاں سے آگئی۔ وزیراعظم سے سوال کیا گیا کہ غیر منتخب لوگ کابینہ میں آئے ہیں، اس لئے صدارتی نظام کے بارے میں تاثر ابھرا، جس پر ان کا کہنا تھا کہ ماہرین کی ضرورت پڑتی ہے، اس لئے غیر منتخب لوگوں کو کابینہ میں شامل کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دیکھنا ہوگا کہ قانون سازی کیلئے پیش کردہ بلوں پر اپوزیشن کتنا ساتھ دیتی ہے، ان بلوں کا تعلق سیاست سے نہیں عوام سے ہے۔

عمران خان کہتے ہیں کہ وزارتوں میں تبدیلی بیٹنگ آرڈر کی تبدیلی ہے، جب ضرورت پڑی کابینہ میں ردو بدل کریں گے، جو کارکردگی دکھائے گا اسے لے کر آئیں گے۔

سابق وزیر خزانہ اسد عمر سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہا کہ اسد عمر آج بھی پی ٹی آئی کا حصہ ہیں، وہ زبردست آدمی اور پارٹی کا اثاثہ ہیں، جلد کابینہ میں واپس آئیں گے۔

وزیراعظم عمران خان کی سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی موجود تھے۔

PM

IMRAN KHAN

IK

NRO

Tabool ads will show in this div