نائن الیون سے ابتک پاکستان میں 17 ہزار دہشتگرد مارے گئے، ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کہتے ہیں کہ پاکستان میں نائن الیون سے اب تک تقریبا 17 ہزار دہشتگرد مارے گئے، اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں ملک میں دہشتگردوں کا کوئی منظم نیٹ ورک موجود نہیں۔

راولپنڈی میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نائن الیون کے بعد عالمی طاقتوں نے اپنی مرضی کی پالیسیوں کےلیے پاکستان کو مجبور کیا، جبکہ دہشتگردی کےخلاف جنگ میں 81 ہزار سے زیادہ پاکستانی شہید یا زخمی ہوئے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ 70 ممالک کے ساتھ انٹيلي جنس شيئرنگ ہوتي ہے، نائن اليون سے آج تک پاکستان نے دہشتگردوں کيخلاف کارروائياں کيں، ہم نے 1 ہزار 237 کائینیٹک آپریشن کیے جبکہ انٹیلیجنس بنیادوں پر 100 آپریشن کیے گئے۔ پاکستان نے 300 بلين ڈالر سے زيادہ کا معاشي نقصان برداشت کيا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بتایا تھا پاکستان کسی طور پر پلواما حملے میں ملوث نہیں، لیکن بھارت کی جانب سے ان گنت جھوٹ بولے گئے اور بولے جا رہے۔ ہم نے بھارت کی لفظی اشتعال انگیزی کا جواب نہیں دیا کیونکہ جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں۔ ہم نے جھوٹ کا جواب دینے کے بجائے صرف حقیقت بتائی۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا بھارت نے کہا کہ پاکستان کا ایف 16 طیارہ گرایا لیکن امریکا نے جہازوں کی گنتی پوری کی جو کہ پورے تھے۔ پاکستان نے 2 طیارے مار گرائے جن کا ملبہ دنیا نے دیکھا، بھارت نے پاکستان کا ایف 16 طیارہ گرانے کا جھوٹا دعویٰ کیا جو کہ جھوٹا ثابت ہوا، جبکہ ايف 16 کے ڈر سے اپنا ايم 17 ہی گرا ديا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اسٹرائیک سے کتنے بھارتی فوجی مارے گئے یہ بھی بھارت دنیا کو بتائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ 1971 نہیں ہے اور نہ ہی یہ وہ فوج، نہ اسطرح کے حالات ہیں، 1971 میں اگر میڈیا ہوتا تو بھارتی سازش کا پول کھل جاتا اور مشرقی پاکستان کبھی علیحدہ نہیں ہوتا۔ ہمیں جب چاہيں آز ماليں کیونکہ پاک فوج ملک کا بھرپور دفاع کرے گی، ملکی دفاع کي بات ہو تو ہر قسم کي صلاحيت کا استعمال ہوتا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا آزادی ملنے کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ بھی آیا، کشمیر ہماری رگوں میں دوڑتا ہے اور پاکستانی ہر وقت کشمیریوں کےلیے تیار رہتے ہیں، افغان وار کے بعد پاکستان میں جہاد کی فضا قائم ہوئی۔

بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہم آپ کے رويے ميں تبديلي لے کر آگئے ہيں لیکن آپ ہم سے رويے ميں جو تبديلي چاہتے ہيں وہ ممکن نہيں۔ بھارت امن کيلئے سنجيدہ ہے تو مذاکرات کي ميز پر آئے، بھارت فيصلہ کرے 27 فروري دہرانا چاہتا ہے يا غربت اور افلاس کا خاتمہ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سرحد پر باڑ لگانے کا بہت فائدہ ہو رہا ہے، دہشتگردوں کي آزادانہ نقل و حرکت محدود ہو گئي۔ دہشتگردی پر قابو پانے کےلیے ايران سے متصل سرحد پر کہيں باڑ لگائيں گے اور کہيں پوسٹ ہوگي، ايران کے ساتھ بہت اچھي کوآرڈينيشن ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ تمام مدارس کو وزارت تعليم کے ماتحت کرنے کا فيصلہ کر ليا ہے، جبکہ مدارس کو ہائر ايجوکيشن بورڈ کے ساتھ منسلک کيا جائے گا۔ جو مدارس يا ادارے دہشتگردي ميں ملوث نہيں انہيں حکومتي عملداري ميں لايا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مدرسے چلتے رہيں مگر نصاب ميں نفرت انگيز بات نہيں ہوگي۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان ميں 30 ہزار سے زيادہ مدارس ہيں، ملک ميں مدرسے کھولے گئے اور جہاد کي ترويج کي گئي۔ پاکستان ميں 3 قسم کے مدارس ہيں جس میں سے دہشتگردي کي ترويج کرنے والے مدارس 100 سے بھي کم ہيں، تمام مدارس دہشت گردي يا عسکريت پسندي کي ترويج نہيں کر رہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان سے انتہا پسندي کا خاتمہ کرنا ہے اور انتہا پسندي کا خاتمہ اسي وقت ممکن ہے جب بچوں کو ايک جيسي تعليم ملے۔ مدارس کے بچوں کاحق نہيں کہ وہ ڈاکٹر يا انجينئر بنيں، تمام علما متفق ہيں کہ مدارس ميں جديد تعليم پڑھائي جائے۔

DG ISPR

kashmir issue

terrorism in pakistan

9/11 Attacks

Major General Asif Ghafoor

Tabool ads will show in this div