کے الیکٹرک کے کام کی وجہ سے یونیورسٹی روڈ سے گزرنا عذاب بن گیا

Apr 27, 2019

یونیورسٹی روڈ کا شمار کراچی کے چند مرکزی شاہراؤں میں ہوتا ہے جس پر روزانہ لاکھوں شہری سفر کرتے ہیں۔ مگر ایک ماہ قبل کے الیکٹرک نے اس روڈ پر نیپا چورنگی سے اتوار بازار تک کھدائی کر رکھی ہے جس کے باعث ایک کلومیٹر کا سفر شہریوں کے لیے عذاب بن گیا ہے۔

کے الیکٹرک نے 3 اپریل کو ٹی پی 1000 پروجیکٹ کے تحت کام کا آغاز کرتے ہوئے نیپا چورنگی سے اتوار بازار تک زیر زمین بجلی کی تاریں بچھانے کیلئے کھدائی کر رکھی ہے۔ کے الیکٹرک حکام کے مطابق اس پروجیکٹ سے کراچی میں مزید 900 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔

ٹریفک پولیس اور کے الیکٹرک کی جانب سے موثر منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث یہاں سے گزرنے والے شہری روزانہ کی بنیاد پر ذہنی اذیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر صبح اور شام کے وقت یہاں سے گزرنا محال ہوجاتا ہے۔

ایک شہری کا کہنا ہے کہ متبادل ٹریفک پلان نہ ہونے کا خمیازہ شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے کیوں کہ یہاں ٹریفک جام میں پھنسے کی وجہ سے روزانہ منزل پر پہنچنے میں کئی گھنٹے تاخیر ہوجاتی ہے۔

اسکول کے بچوں نے سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس روڈ پر کام کی وجہ سے وہ روزانہ دیر سے اسکول پہنچتے ہیں اور پھر اسکول سے گھر واپسی میں بھی تاخیر ہوجاتی ہے۔

کے الیکٹرک کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس منصوبے پر کام شروع کرنے سے پہلے کے ایم سی اور ڈی ایم سی ایسٹ سے اجازت حاصل کی تھی اور جہاں تک ٹریفک جام کا مسئلہ ہے تو یہ ٹریفک پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو متبادل روٹ فراہم کرے۔

ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق مذکورہ کام رمضان شروع ہونے سے قبل 5 مئی تک مکمل ہوجائے گا۔

دوسری جانب ٹریفک پولیس نے ایک واٹس ایپ گروپ بنایا ہے جس میں یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک سے متعلق عوام کو آگاہ رکھا جاتا ہے۔

ٹریفک پولیس نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ نیپا چورنگی سے اتوار بازار تک سروس لین استعمال کی جائے جس کے باعث یونیورسٹی روڈ کے دونوں جانب سروس لین کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

علاقے کے کونسلر دانش کریم نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ دونوں سروس لین اگست 2018 میں سیوریج لائن بچھانے کے بعد تعمیر کی گئی تھی مگر حالیہ دنوں میں مرکزی سڑک بند ہونے کے باعث پورا ٹریفک سروس لین پر منتقل ہوگیا ہے اور بھاری گاڑیاں بھی یہاں سے گزرتی ہیں جس کے باعث سروس لین کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

Tabool ads will show in this div