وزیراعظم نے فضل الرحمان کو سیاست کا 12واں کھلاڑی قرار دیدیا

?????????
?????????
?????????
?????????

وزیراعظم عمران خان نے دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں وہ واحد وزیراعظم ہوں جو قبائلی علاقوں اور یہاں کے لوگوں کو سب سے بہتر انداز میں سمجھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرا مشن ہے کہ اس ملک کو ریاست مدینہ کی طرح بناو۔ اس موقع پر وزیراعظم نے فضل الرحمان کو ٹیم کا 12 واں کھلاڑی قرار دے دیا۔

جنوبی وزیرستان کے ہیڈکواٹرز وانا میں جلسہ عام سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ شاندار استقبال پر عوام کا شکريہ ادا کرتا ہوں، پہلي دفعہ وانا میں 30 سال قبل آيا تھا،زيادہ تر لوگوں کو قبائلي روايات کا علم نہيں، میں وہ واحد ملک کا وزیراعظم ہوں جو قبائلي علاقوں کو پوري طرح سے سمجھتا ہوں۔

 

انہوں نے کہا کہ یہاں سب سے زيادہ انگريز فوجي وزيرستان ميں ہلاک ہوئے، ایک نہ سمجھ ملک کے سربراہ کی وجہ سے یہ خطہ خانہ جنگی کی نظر ہوا، یہاں کے لوگوں کو مارا گیا اور انہیں دہشت گرد کہا گیا، صرف یہ ہی نہیں اس علاقے میں دوسروں کے کہنے پر جنگ شروع ہوئی، جس میں ہمارے فوجی مارے گئے۔

منی لانڈرنگ کیا ہوتی ہے ؟

وزیراعظم نے وانا کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ منی لانڈرنگ کیا ہے ؟ جس پر جلسے سے آوازیں آئیں کہ نہیں۔ جلسے سے خطاب میں وزیراعظم نے وانا کے عوام کو منی لانڈرنگ کے معنی سے بھی آگاہ کیا۔

سیاست کا 12واں کھلاڑی فضل الرحمان

جلسے سے خطاب میں وزیراعظم عمران فضل الرحمان کو نہ بھولے۔ انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان کی بڑی سستی قیمت ہے، ایک تو کشمیر کمیٹی اور دوسرا ڈیزل کا پرمٹ۔ فضل الرحمان دراصل پاکستانی سیاست کے 12 ویں کھلاڑی ہیں۔

بھٹو صاحبہ نہیں صاحب ہیں

جلسے خطاب میں ایک بار پھر وزیراعظم عمران خان کی زبان پھسل گئی۔ وزیراعظم بلاول بھٹو کو صاحب کے بجائے صاحبہ کہہ گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں بلاول بھٹو صاحبہ کی طرح کسی پرچی پر نہیں آیا۔

علاقے کیلئے بنیادی پیکیجز کا اعلان

وزیراعظم وانا کے لوگوں کے لئے مختلف پیکجز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ  وانا میں بچیوں اور لڑکوں کیلئے دو ڈگری کالجز قائم کیے جائیں گے، یہاں نوجوانون کیلئے اسپورٹس کمپلیکس بنائیں گے، جگہ جگہ کھیل کے میدان بنائے جائیں گے۔ ہم یہاں صاف پانی کیلئے ایران کی طرز پر جگہ جگہ چھوٹے ڈییمز بھی بنانے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ جب کہ یہاں کے لوگوں کے صحت کے مسائل حل کرنے کیلئے ہر شخص کو صحت کارڈ دیئے جائیں گے،جس کے ذریعے وہ ملک کے کسی بھی اسپتال میں اپنا علاج کراسکیں گے۔

قبل ازیں جلسے سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میری زندگی مقابلہ کرنے میں گزری ہے، میں نے سیاست کے میدان میں بھی مقابلہ کیا، میں یہاں بڑی جدوجہد سے پہنچا ہوں، میں ان سب کٹھوں کا اکیلے مقابلہ کروں گا، ملک کی دو سیاسی جماعتوں نے اس ملک کو لوٹا ہے، ان دو جماعتوں نے ملک کو قرضے کی دلدل میں پھینکا، یہ لوگ چاہتے ہیں کہ مجھ پر زور لگا کر عمران خان کو این آر او کیلئے راضی کرلیا جائے، مگر میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔

 

وزیراعظم نے مزید کہا کہ میرے اقتدار میں آنے کا مقصد کرپٹ لوگوں کو شکست دینا اور ملک کو ترقی کے راستے پر لانا ہے، آج سارے کرپٹ افراد جمع ہوگئے ہیں، جمہوریت بچانے کے نام پر، ان لوگوں کا مقصد ہے کہ چوری کا پیسہ بچایا جاسکے،یہ لوگ کان کھول کر سن لیں کہ نہ ان کو معافی ملے گی یا ان کے ساتھ کسی قسم کا این آر او ہوگا۔

 

اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ میں وہ واحد سیاست دان تھا جس نے فوج کی قبائلی علاقے میں آنے کی مخالفت کی، بدقسمتتی سے میری بات نہ مانی گئی، اس وقت کے سربراہ کو نہ قبائلی علاقے کی سمجھ تھی اور نہ یہاں کے لوگوں کی سمجھ تھی، ہماری فوج کی بھی قربانی ہوئی اور یہاں کے لوگوں کی بھی، یہاں کے لوگوں نے جو مشکلات اٹھائیں وہ میں جانتا ہوں، یہاں کے لوگوں کو گھر کی عورتوں کے ساتھ یہاں سے نقل مکانی کرنی پڑی، یہاں سے لوگ کراچی اور پختونخوا گئے اور جب واپس آئے تو گھر تباہ ، مال مویشی غائب اور دکانیں بھی تباہ تھیں۔

 

اس موقع پر انہوں نے لوگوں کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں آپ کے پاس یقین دلانے آیا ہوں کہ آج پاکستان کا ایک ایسا وزیراعظم ہے جو آپ کے دکھ درد کو سمجھتا ہے اور وہ ایک ایسا وزیراعظم ہے، جس کا مشن ہے کہ ملک کو مدینہ کی ریاست کی طرح بنانا ہے اور یہ علامہ اقبال کا خواب تھا۔

ZARDARI

wana

south Waziristan

SHARIF FAMILY

TRIBAL ELDERS

PM IMRAN KHAN

Wazir Tribe

Tabool ads will show in this div