آکسفورڈ یونیورسٹی کرکٹ کی بنیاد پر داخلہ دے تو یہی ہوتا ہے

وزیراعظم عمران خان کو ایرانی ہم منصب حسن روحانی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران جرمنی اور جاپان سے متعلق بیان پر اپوزیشن کی جانب سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

چیئرمین پی پی بلاول بھٹو نے ٹوئٹر پر طنز کیاتو گونج قومی اسمبلی تک پہنچ گئی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم کے بیان پرخوب تنقید کی۔

گزشتہ روز عمران خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ جرمني اورجاپان دونوں نےجنگ ميں اپنےلاکھوں لوگ گنوائے، پھردوسري جنگِ عظيم کے بعد انہوں نےسرحدي علاقوں ميں مشترکہ صنعتيں لگانےکا فيصلہ کيا۔

اس بیان پر بلاول بھٹو نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ جب آکسفورڈ يونيورسٹي صرف کرکٹ کي بنياد پر داخلہ دے گي تو يہي ہوگا، وزیراعظم کا بیان باعث شرمندگی ہے۔

جغرافیائی لحاظ سے جاپان براعظم ایشیا اور جرمنی یورپ میں واقع ہے ، اسی لیے سوشل میڈیا پر وزیراعظم کے بیان پر خوب لے دے ہوئی تو آج ایوان میں بھی یہی ذکر چلتا رہا۔

پی پی رہنما حنا ربانی کھرنے کہا کہ وزيراعظم ايسي بات کہہ کر دنيا کو پاکستان پر ہنسے کا موقع فراہم کرتے ہيں ۔ ہم اس ملک کو مذاق بنتا ديکھ کر اس کے ليے پريشان ہيں۔ ہم اپنے ليے پريشان نہيں ہيں، يہ مذاق اب ختم ہونا چاہيے۔

وزیراعظم عمران خان پر تنقید ہوئی تو تحريکِ انصاف کی رہنماشيريں مزاري بھی بول پڑیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سب کو پتا ہے وزیراعظم کی زبان پھسل گئي تھي، اور اگر آپ کو تاريخ کا نہيں پتا تو مجھے انتہائي افسوس ہوتا ہے۔۔ يہي کہنا چاہوں گي کہ اسے سنجيدہ نہ ليں۔

شیریں مزاری کی وضاحت اپنی جگہ وزيراعظم کےمشيرافتخاردراني نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کچھ اور ہی لکھ ڈالا۔ افتخار درانی نے ٹوئٹر پر بلاول کو لکھا، ’’حادثاتي چيئرمين صاحب ، عمران خان نے کہاں کہا ہے کہ جرمني اور جاپان ہمسايہ ہيں، انہوں نےتودونوں ملکوں کي سرحدپرصنعتي زون بنانےکي بات کی۔

 

IMRAN KHAN

national assembly session

BILAWAL BHUTTO

Japan and Germany

Tabool ads will show in this div