ہاتھوں سے محروم بچی نے لکھائی کا مقابلہ جیت لیا

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والی ہاتھوں سے محروم دس سال کی بچی نے لکھائی کا مقابلہ جیت لیا۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق سارہ ہین سیلے کے مطابق اس کے خیال میں اس کی لکھائی اتنی شاندار نہیں کہ وہ یہ مقابلہ جیت سکتی۔

سارہ کی والدہ کا کہنا ہے کہ سارہ بہت اچھی ڈرائنگ، پینٹنگ اور مٹھی کی چیزیں بناتی ہے۔ وہ اچھی انگریزی اور چینی زبان میں بھی لکھ سکتی ہے۔ سارہ کا کہنا ہے کہ جب اس نے اس سال مخصوص انداز میں لکھائی کی مشق شروع کی تو اسے لگا کہ یہ تو بہت آسان ہے۔

میڈیا سے گفت گو میں سارہ کی والدہ نے بتایا کہ سارہ پیدائشی طور پر ہاتھوں سے محروم ہے۔ سارہ کی ٹیچر شیرل کا کہنا ہے کہ میں نے آج تک کبھی سارہ کو یہ کہتے نہیں سنا کہ وہ کوئی کام نہیں کرسکتی ہے۔ سارہ کی ٹیچر کے مطابق سارہ کو جو بھی کام دیا جائے اس نے ہمیشہ بخوبی کیا ہے، وہ یقینا ایک راک اسٹار ہے۔

فریڈرک کے علاقے سے تعلق رکھنے والی سارہ تیسری جماعت کی اسٹوڈنٹ ہے اور سینٹ جان اسکول میں زیر تعلیم ہے۔

حال ہی میں سارہ نے نکولس میکسئم ایوارڈ 2019 اپنے نام کیا ہے۔ یہ ایوارڈ سالانہ بنیادوں پر دو بچوں کو دیا جاتا ہے۔ سارہ چار سال قبل چین سے امریکا آئی تھی، اس وقت اسے انگریزی نہیں آتی تھی، تاہم اس نے بہت جلدی انگریزی سیکھ لی۔

سارہ میں خود کام کرنے کی عادت اتنی تھی کہ وہ کسی کی مدد لینا پسند نہیں کرتی تھی۔ اپنی لکھائی سے متعلق سارہ کا کہنا ہے کہ وہ الفاظ کی شکل اور اس کے لکھنے کے عمل کا پہلے مشاہدہ کرتی ہے اور پھر اسے لکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ سارہ کا مزید کہنا تھا کہ اسے آرٹ اور ڈرائنگ بہت پسند ہیں۔

Mandarin

handwriting

Tabool ads will show in this div